واشنگٹن : امریکہ مسلح افواج نے ملک کی فضائی حدود میں چین کا “جاسوس غبارہ “مار گرایا ہے۔اطلاع کے مطابق چینی جاسوس غبارے کی امریکی کھْلے پانیوں میں بحرِ اوقیانوس کے اوپر پرواز کے دوران امریکی فوج کے جیٹ طیاروں نے فائر کر کے اسے مار گرایا ہے۔ واقعے کے بعد وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کا متوقع دورہ چین بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔تین اسکول بسوں جتنے بڑے اور 60 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے غبارے کے ملبے کو سمندر سے نکالنے کا کام جاری ہے۔غبارے سے متعلق جاری کردہ بیان میں امریکہ کے صدر جو بائڈن نے کہا ہے کہ “چہارشنبہ کے روز جاسوس غبارے کی اطلاع موصول ہونے کے بعد میں نے امریکہ وزارت دفاع ‘پینٹاگون’ کو جلد از جلد اسے گِرانے کے احکامات جاری کر دئیے تھے”۔بائیڈن نے جاسوس غبارے کو نشانہ بنانے والے فوجیوں کو مبارکباد پیش کی اور کہا ہے کہ زمین پر شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لئے وزارت دفاع نے غبارے کو نشانہ بنانے کے ” بہترین وقت” کا انتظار کیا ہے۔امریکہ کے وزیر دفاع لائڈ آسٹن نے بھی جاری کردہ تحریری بیان میں کہا ہے کہ ” امریکہ کے اسٹریٹجک علاقوں کی نگرانی کے لئے چین کی طرف سے استعمال کئے گئے جاسوس غبارے کو امریکہ کیسمندرو ں پر گرادیا گیا ۔آسٹن نے کہا ہے کہ غبارے کے حجم، بلندی اور کنٹرول صلاحیت کی وجہ سے امریکی فوج کے کمانڈروں نے فیصلہ کیا کہ اسے خشکی پر گِرایا جانا غیر ضروری خطرے کا سبب بن سکتا ہے لہٰذا غبارے کے رْوٹ اور جاسوسی کاروائیوں پر بغور نگاہ رکھی گئی۔ غبارے کو کینیڈا حکومت کے تعاون سے گِرایا گیا ہے۔