شہر میں عوامی احتجاج کی نئی لہر ۔ فائرنگ کے ذمہ دار پولیس عہدیدار کو برطرف کردینے کا اعلان
کولمبس ۔ امریکی شہر کولمبس اوہائیو میں ایک سیاہ فام نہتے شخص پر پولیس کی فائرنگ اور اس کی موت کے بعد یہاں مقامی عوام کی جانب سے نسلی ناانصافیوں کے خلاف احتجاج شروع ہوگیا ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ پولیس بطور خاص سیاہ فام باشندوں کو نشانہ بنا رہی ہے ۔ اوہائیو میں جاریہ مہینے سیاہ فام شخص کا یہ دوسرا قتل ہے ۔ تفصیلات کے بموجب آندرے موریس ہل نامی 47 سالہ شخص ایک گھر کے گیراج میں تھا جب اس پر ایک پولیس آفیسر نے کئی راونڈ فائر کردئے ۔ اس پولیس عہدیدار کو وہاں ایک معمولی واقعہ پر طلب کیا گیا تھا ۔ ایک ویڈیو منظر عام پر آیا ہے جو پولیس عہدیدار کے جسمانی کیمرے کا ہے ۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ فائرنگ سے چند سیکنڈ قبل موریس ہل اپنے بائیں ہاتھ میں سیل فون تھامے پولیس عہدیدار کی سمت بڑھ رہا تھا ۔ اس کا دوسرا ہاتھ ویڈیو میں دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ کولمبس پولیس سربراہ تھامس کوئن لان نے اعلان کیا کہ فائرنگ کرنے والے عہدیدار آدم کائے کو خدمات سے برطرف کیا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے ۔ کوئن لان نے کہا کہ یہ عہدیدار ایسا ہے جس نے قوانین اور کولمبس ڈویژن پولیس کی پالیسیوں کی پاسداری کا عہد کرنے کے باوجود ان کی خلاف ورزی کی ہے ۔ اس خلاف ورزی کے نتیجہ میں ایک بے گناہ شخص اپنی جان گنوا بیٹھا ہے ۔ مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کائے کے خلاف اس سے قبل بھی طاقت کے بیجا اور بے تحاشہ استعمال کی شکایات موصول ہوئی تھیں۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ آدم کائے اور ان کا ساتھی پولیس عہدیدار زخمی موریس ہل کی سمت آگے بڑھنے سے قبل کئی منٹ تک خاموش کھڑے رہے تھے جو گولیاں لگنے کے باوجود زندہ تھا ۔ تاہم بعد میں وہ فوت ہوگیا ۔ اندرون تین ہفتے یہ دوسرا واقعہ ہے جب کولمبس کی پولیس نے کسی افریقی ۔ امریکی شہری کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ موریس ہل کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا ۔ اس سے قبل 4 ڈسمبر کو کاسے گوڈسن نامی 23 سالہ شخص کو بھی اس وقت گولی ماردی گئی تھی جب وہ اپنے گھر واپس ہو رہا تھا ۔ اس کے افراد خاندان کا کہنا تھا کہ گوڈسن کے ہاتھ میں ایک سینڈوچ تھا جسے پولیس نے ہتھیار سمجھا ۔ موریس ہل کی ہلاکت کے خلاف سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ان کے ہاتھوں میں سیاہ پرچم تھے اور وہ پولیس فائرنگ میں مرنے والے افراد کیلئے انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ واضح رہے کہ چند ماہ قبل امریکہ میں ایک افریقی امریکی شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد بھی بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوگیا تھا اور یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ امریکہ میں سیاہ فام باشندوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ جارج فلائیڈ بھی سیاہ فام تھا اور ایک پولیس آفیسر نے منیا پولیس میں اس کے سینے پر پیر رکھ کر دبادیا تھا جس سے فلائیڈ دم گھٹنے سے فوت ہوگیا تھا ۔