بیجنگ، 4 مارچ (یو این آئی) چین کے معروف جیو پولیٹیکل تجزیہ کار پروفیسر جیانگ کی تیسری پیشگوئی ایک بار پھر میڈیا میں نمایاں ہو رہی ہے جو ایران کے خلاف امریکی جنگ میں شکست اور فتح سے متعلق ہے ۔ پروفیسر جیانگ شوچین نے 2024میں تین بڑی پیش گوئیاں کی تھیں، جن میں پہلی دو پیش گوئیاں سچ ثابت ہو چکی ہیں، پہلی یہ کہ ڈونالڈ ٹرمپ دوبارہ صدارتی انتخاب جیتیں گے اور امریکہ کے صدر بنیں گے ، دوسری یہ کہ ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ شروع کریں گے اور اب وہ اپنی تیسری پیشگوئی پر بھی قائم ہیں۔ پروفیسر جیانگ نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کو شکست ہوگی، اُن کا ماننا ہے کہ ایران یہ جنگ جیت جائے گا، جس سے امریکی عالمی بالادستی کو شدید جھٹکا لگے گا، جس کے بعد چین اور روس مضبوط طاقتیں بن کر ابھریں گے ۔ واضح رہے کہ ان کی دونوں پیش گوئیاں درست ثابت ہونے کی وجہ سے تیسری پیش گوئی امریکہ کیلئے باعثِ تشویش بنی ہوئی ہے ، کہ امریکہ ایران کے خلاف اس جنگ میں شکست کھا جائے گا۔ جیانگ نے اس ہفتے ”بریکننگ پوائنٹس” پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے کہا ”میری جنگ کے تجزیے کے مطابق، میرے خیال میں ایران کے پاس امریکہ کے مقابلے میں بہت زیادہ فوائد ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ابھی یہ ایک ایسی جنگ ہے جو تھکن اور نقصان کے تبادلے پر مبنی ہے اور ایرانی اس جنگ کیلئے پچھلے 20 سالوں سے تیار ہو رہے ہیں۔” پروفیسر جیانگ نے مزید کہاکہ ایرانیوں کے مذہب میں یہ ‘عظیم شیطان’ کے خلاف جنگ ہے ۔ انھوں نے کئی مشقیں کی ہیں۔ پچھلے جون میں 12 دنوں کی جنگ ہوئی تھی جس میں ایرانیوں نے اسرائیلی اور امریکی حملہ آور صلاحیتوں کا تجزیہ کیا اور اب ان کے پاس اس نئے حملے کیلئے مکمل تیاری کیلئے 8 ماہ کا وقت بھی تھا۔” جیانگ کے مطابق ”ایران کے پراکسیز یعنی حوثی، حزب اللہ، حماس اور دیگر ملیشیائیں امریکی ذہنیت کو اچھی طرح سمجھ چکی ہیں اور اب ان کے پاس ایک مضبوط حکمتِ عملی ہے کہ کس طرح امریکی طاقت کو کمزور اور بالآخر تباہ کیا جائے ۔” جیانگ نے کہا کہ ایرانی ”دنیا کی معیشت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں” انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ”اس لیے خلیجی ممالک کے امریکی اڈے نشانہ بنائے جارہے ہیں، اور صرف اڈوں کو نہیں، بلکہ ان اڈوں کے اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ بالآخر وہ پانی کے تحلیل کرنے والے پلانٹس کو بھی نشانہ بنائیں گے ، جو ان ممالک کی زندگی کا بنیادی ذریعہ ہیں کیوں کہ یہاں تازہ پانی کی فراہمی محدود ہے ۔” انھوں نے کہا دراصل پانی کے تحلیل کرنے والے پلانٹس خلیجی ممالک کے پانی کی 60 فی صد سپلائی فراہم کرتے ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی ڈرون، جس کی قیمت تقریباً 50,000 ڈالر ہے ، ریاض، سعودی عرب میں پانی کے تحلیل کرنے والے پلانٹ کو تباہ کر دے ، تو ایک ایک کروڑ کی آبادی والا شہر دو ہفتوں میں پانی سے محروم ہو جائے گا۔ اور ایران نے آبنائے ہرمز بھی بند کر دی ہے ۔