عظمتیں اپنے چراغوں کی بچانے کیلئے
ہم کسی گھر میں اُجالا نہیں ہونے دیتے
صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ دنیا کے ہر خطہ میں اپنی اجارہ داری اور تسلط کو یقینی بنانے کیلئے کوشش کر رہے ہیں اور وہ اس کے نتائج سے بھی لاپرواہ ہوگئے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ساری دنیا میں اتھل پتھل کی کیفیت پیدا ہونے لگی ہے تاہم ٹرمپ کسی کو بھی خاطر میں لائے بغیر اپنی من مانی روش کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ کنیڈا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کا ٹرمپ نے ارادہ ظاہر کیا تھا ۔ انہوں نے ونیزویلا کے خلاف کارروائی کی اور اس کے صدر کو یرغمال بنالیا ہے ۔ وہ ونیزویلا کی تیل اور دیگر قدرتی وسائل کی دولت پر قبضہ اور تسلط کرنا چہتے ہیں۔ ٹرمپ نے ابتداء ہی سے گرین لینڈ جزیرہ کو خریدنے کے منصوبے بنائے ہوئے ہیں اور وہ ان پرکسی بھی قیمت پر عمل آوری کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے ایران میں حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی ۔ وہاں عوام کے احتجا ج کو ہوا دی گئی ۔ انہیں مشتعل کیا گیا تاہم عین وقت پر وہ جلا وطن ولیعہد رضاء پہلوی کی قائدانہ صلاحیتوں سے مایوس ہوگئے اور اس کا برملا اظہار بھی کردیا جس کے بعد ایران میں ایک طرح سے مظاہروں کا سلسلہ تھم سا گیا ہے بلکہ ختم ہوگیا ہے ۔ اب ڈونالڈ ٹرمپ یوروپ کو بھی بخشنے کو تیار نہیں ہیں ۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ساری دنیا ان کے اشاروں پر ناچنے لگے اور ان کے ہر فیصلے کی تائید و حمایت کرنے لگے ۔ کوئی چوں و چرا بھی نہ کرنے پائے ۔ جہاں کہیں کوئی امریکہ کی مخالفت کرتا نظر آئے اس کے خلاف شرحیںعائد کرنے کی دھمکی دیتے ہیں اورشرحیں عائد بھی کردیتے ہیں۔ ہندوستان کے خلاف بھی ٹرمپ نے روس سے تیل کی خریدی کا عذر پیش کرتے ہوئے بھاری شرحیں عائد کردی ہیں۔ انہوں نے ہندوستان سے دیرینہ اور حکمت عملی شراکت داری کا بھی کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھا اور اب انہوں نے یوروپی ممال پر بھی گرین لینڈ جزیرہ کے تعلق سے ان کے منصوبے کی مخالفت پر 10 فیصد شرحیں عائد کردینے کا اعلان کیا ہے ۔ ہر مسئلہ میں امریکہ کی تائید کرنے والے یوروپی ممالک کو اب ٹرمپ کے اقدامات سے خود ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ٹرمپ کی جانب سے شرحوں کی دھمکی کے بعد یوروپی ممالک میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہونے لگی ہے اور کچھ ممالک جہاں امریکہ کے خلاف جوابی شرحیں عائد کرنے کی بات کر رہے ہیں تو کچھ ممالک ٹرمپ سے مصالحانہ گفتگو کی بھی وکالت کرنے لگے ہیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ اپنی دوسری معیاد کے دوران انتہائی جارحانہ تیور کے ساتھ کام کرنے لگے ہیں اور دنیا بھر میں کسی کو بھی خاطر میں لانے تیار نہیں ہیں ۔ جس طرح سے انہوں نے گرین لینڈ جزیرہ خریدنے کا منصوبہ بنایا ہے وہ بہر قیمت اس پر عمل آوری کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس راہ میں حائل ہونے والی ہر رکاوٹ کو دور کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں اور اس کیلئے یوروپی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی داؤ پر لگانے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔ یہ ٹرمپ کی تسلط والی ذہنیت کی مثال ہے ۔ وہ دنیا بھر پر اپنا کنٹرول اور اپنا ہی راج چاہتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی مخالفت کو برداشت کرنے تیار نہیں ہیں اور شرحوں کو اور بھاری ٹیکس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ۔ ٹرمپ کے ساتھ چین ہی وہو احد ملک ہے جس نے برابر کا جواب دینے کا حوصلہ کیا تھا ۔ امریکہ نے جب چین پر شرحیں عائد کرنے کا اعلان کیا تو چین نے بھی امریکہ پر جوابی شرحیں عائد کرنے کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد چین کے تعلق سے ٹرمپ کے تیور میں نرمی دیکھی گئی اور انہوں نے اپنے کچھ فیصلوں کو واپس بھی لینے کا اعلان کیا تھا ۔ یوروپ کے بھی کچھ ممال ہیں جو چاہتے ہیں کہ ٹرمپ کے ساتھ جوابی کارروائی والا رویہ اختیار کیا جائے اور امریکہ پر جوابی شرحیں عائد کردی جائیں ۔ تاہم تمام ممالک اس طرح کا حوصلہ پیدا نہیں کر پا رہے ہیں اور وہ اپنی آئندہ مشکلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ٹرمپ کے ساتھ مصالحانہ گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ مختلف ممالک کے اسی رویہ نے ٹرمپ کے حوصلوں کو بڑھا دیا ہے ۔ ٹرمپ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ساری دنیا ان کے اشاروں پر چلنے کیلئے مجبور ہے اور وہ جو چاہیں من مانی انداز اختیار کرسکتے ہیں۔
جس طرح سے چین نے امریکہ کو جیسے کو تیسا کا جواب دیا تھا اور جس طرح ہندوستان نے شرحوں سے متاثر ہوئے بغیر اپنے طور پر فیصلے کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اسی طرح یوروپی ممالک کو بھی چاہئے کہ وہ ٹرمپ کے دباؤ کو تسلیم کرنے سے گریز کریں۔ وہ گرین لینڈ جزیرہ کا معاملہ ہو یا پھر دنیا کے کچھ دوسرے امور ہوں اپنے طور پر فیصلے کریں اور کسی بھی طرح کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کردیں۔ یوروپی ممالک اگر ٹرمپ کے دباؤ کو مسترد کردیتی ہیں اور جوابی شرحیں عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو شائد ٹرمپ کے رویہ میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو ملے اور جس طرح چین کے تعلق سے ان کا موقف نرم ہوا اورتبدیل ہوا ہے دنیا کے دوسرے امور میں بھی اسی طرح کی تبدیلی ممکن ہوسکتی ہے ۔