امریکہ ۔ ایران مذاکرات کی ناکامی

   

رہِ عشق میں آبلہ پا تھے لیکن
کہاں تھک رہے تھے قدم چلتے چلتے
امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان میں ہوئی بات چیت ناکام ہوگئی ہے ۔ امریکی وفد 21 گھنٹوں کے دورہ پاکستان کے بعد اسلام آباد سے واپس روانہ ہوگیا ہے اور اس کا کہنا تھا کہ ایران ‘ امریکہ کی جانب سے کی گئی پیشکش یا شرائط کو قبول کرنے تیار نہیں تھی ۔ در اصل دونوں ملکوں کے مابین نیوکلئیر مسئلہ پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ۔ یہ بھی واضح نہیں سکا کہ آبنائے ہرمز کے تعلق سے کوئی اتفاق رائے ہوا تھا یا نہیں تاہم یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو صاف کرنے کے اقدامات شروع کئے جاچکے ہیں۔ اسلام آباد میں ہوئے مذاکرات کی ناکامی دنیا کیلئے کوئی اچھی خبر نہیں کہی جاسکتی۔ ایک بار پھر سے جنگ کے اور کشیدگی کے اندیشے پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ صدر ٹرمپ نے یہ انتباہ دیا تھا کہ بات چیت اگر ناکام ہوتی ہے تو ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا جائے گا ۔ ایران ابتداء میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کیلئے بھی تیار نہیں تھا اور اس کاکہنا تھا کہ جنگ بندی در اصل امریکہ اور اسرائیل کو ایک بار پھر اپنے وسائل مجتمع کرکے دوبارہ فوجی کارروائی کرنے کا موقع مل جائے گا ۔ تاہم سفارتی کوششوں کے نتیجہ میں جنگ بندی ہوئی اور مستقل جنگ بندی کیلئے مذاکرات کا بھی انعقاد عمل میں آیا ۔ امریکہ نے نیوکلئیر مسئلہ پر ایران پر کچھ شرائط عائد کرنے کی کوشش کی تھی ۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ ایران کو کبھی بھی نیوکلئیر ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور ساتھ ہی ایران کو یورانیم کو بھی تلف کردینے کی ضرورت ہے ۔ یہ ایسا لگتا ہے کہ مذاکرات کو ناکام بنانے امریکہ کا بہانہ ہی تھا کیونکہ خود امریکی صدر ٹرمپ نے دعوی کیا تھا کہ ایران کے خلاف کی گئی فوجی کارروائی میں امریکہ کے جنگی مقاصد پورے ہوچکے ہیں۔ یہ دعوی کرنے کے باوجود دوبارہ ایران کے تعلق سے شکوک و شبہات کا اظہار کرنا خود ٹرمپ کے سابقہ دعووں کی قلعی کھولنے کیلئے کافی ہے ۔ ٹرمپ کے دعووں کی حقیقت دنیا کے سامنے آگئی ہے کہ ان میں کوئی سچائی نہیں تھی ۔ اسی وجہ سے ایران پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے نیوکلئیر عزائم کو ترک کردے ۔ یہی شرط ایران کیلئے قابل قبول نہیں ہے ۔
ایران کے خلاف جو فوجی کارروائی کی گئی تھی اس میںامریکہ کے علاوہ اسرائیل نے بھی ایران کی نیوکلئیر تنیصبات کو نشانہ بنایا تھا ۔ گذشتہ سال جو حملے کئے گئے تھے ان میں بھی نیوکلئیر تنصیبات پر حملے کئے گئے تھے اور گذشتہ دنوں کی جنگ میں بھی ایسا ہی کیا گیا تھا ۔ اس کے باوجود امریکہ اور اسرائیل کو یقین نہیں ہے کہ ان کے حملے کامیاب ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان حملوں کی کامیابی کا دعوی کیا گیا ہے لیکن اب جو نیوکلئیر عزائم پر روک لگانے کی جوشرط عائد کی جا رہی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ سابق میں کئے گئے حملے پوری طرح سے ناکام ہوگئے ہیں ۔ بھلے ہی امریکہ اپنے مقاصد کی تکمیل کا دعوی کرے لیکن حقیقت دنیا پر ظاہر ہوچکی ہے ۔ اسی وجہ سے ایران پر نیوکلئیر عزائم کو ترک کرنے کیلئے دباو ڈالا جارہا ہے ۔ اس مسئلہ کو امریکہ نے اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کیلئے عذر کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ جو جنگ بندی ہونی چاہئے تھی اس کیلئے دوسرے امور پر بات چیت ہونی چاہئے تھی ۔ ایران کے خلاف جو تحدیدات عائد ہیں انہیں برخواست کیا جانا چاہئے تھا ۔ آبنائے ہرمز میںبحری جہازوں کی کسی رکاوٹ یا خلل کے بغیر گذر کو یقینی بنانے پر توجہ دی جانی چاہئے تھی ۔ علاقہ کی سلامتی اور سکیوریٹی اور دیرپا امن کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئے تھے ۔ ان سارے امور پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی اور صرف نیوکلئیر مسئلہ کو بات چیت کا مرکز بنادیا گیا ۔ کوشش کی جانی چاہئے تھی کہ بات چیت کامیاب ہو اور دنیا میں امن کو یقینی بنایا جاسکے ۔
جس طرح سے پاکستان نے بات چیت کی میزبانی کی اور دنیا کے مختلف ممالک نے اس کو کامیاب بنانے کیلئے جو مشورے دئے تھے وہ اپنی جگہ ہیں تاہم اب جبکہ یہ بات چیت کسی کامیابی سمجھوتے کے بغیر ختم ہوگئی ہے تو ایک بار پھر کشیدگی کے اندیشے بڑھ گئے ہیں۔ عالمی برداری کو کم از کم اب آگے آنے اور مزید بات چیت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی حل برآمد ہوسکے اور امن کو یقینی بنایا جاسکے ۔ جنگی کارروائیوں سے دنیا کے مسائل حل نہیںہونگے بلکہ ان مسائل میںاضافہ ہوگا ۔ دنیا امن کی متقاضی ہے اور امن کو یقینی بنانے کیلئے دنیا کے دوسرے تمام ممالک اور اداروں کو آگے آنے کی ضرورت ہے ۔