امریکی امیگریشن حکام نے چھاپے کے دوران خاتون کو گولی مار کر ہلاک کردیا

   

Ferty9 Clinic

واشنگٹن، 8 جنوری (یو این آئی) امریکی شہر منیاپولس میں امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے چھاپے کے دوران ایک اہلکار کی فائرنگ سے خاتون ہلاک ہوگئیں۔ واقعہ رہائشی علاقے میں پیش آیا جہاں غیرقانونی امیگرینٹس کے خلاف آپریشن کی مخالفت میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جارہا تھا۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے چھاپے کے دوران کچھ افراد اہلکاروں کا راستہ بلاک کررہے تھے ۔ میڈیا رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایک خاتون ڈرائیور نے آئی سی ای اہلکاروں کو اپنی گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی جس کے رد عمل میں ایک اہلکار نے خاتون کو گولی مار دی جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گئیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی ای افسر کی فائرنگ بظاہر دفاعِ میں تھی، خاتون نے افسر کو گاڑی سے کچلا، خاتون بے نظمی، مزاحمت اور رکاوٹ ڈال رہی تھی اور آئی سی ای افسر نے خود کو بچانے کے لیے فائرنگ کی۔ ادھر رکن کانگریس الہان عمر نے آئی سی ای اہلکار کے اقدام کو ناقابل معافی قرار دیا اور کہا کہ یہ انتہائی قابل مذمت ہیں،کمیونٹیزکی حفاظت کے بجائے شہریوں کے قتل کا سلسلہ شروع کردیا گیا، یہ ریاستی تشدد اور ناقابل معافی ہے ، آئی سی ای کو جواب دینا ہوگا۔ مئیر منیا پولس نے واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی ای افسر نے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاتون کی جان لے لی۔