G-7 سمٹ میں ٹرمپ کے بیان کے بعد حسن روحانی کا مثبت ردعمل ۔ آئندہ چند ہفتوں میں امریکیوں کیساتھ بات چیت متوقع
تہران ۔ 27 اگسٹ ۔( سیاست ڈاٹ کام )صدر حسن روحانی نے منگل کو امریکہ سے کہاکہ ایران کے خلاف تمام تحدیدات برخواست کرتے ہوئے پہلا قدم اُٹھائے ۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس ادعاء کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں اُنھوں نے بات چیت کے لئے کھلا ذہن ہونے کی بات کہی تھی ۔ دوشنبہ کو ٹرمپ نے کہا تھاکہ وہ اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ آنے والے چند ہفتوں میں ملاقات کے لئے تیار ہیں ۔ اس بیان کو فرانسیسی ساحلی تفریح گاہ بیاریز میں منعقدہ G-7 سمٹ کے دوران ممکنہ کامیابی سمجھا جارہا ہے ۔ ایران کی معیشت امریکی تحدیدات کے سبب بری طرح متاثر ہوئی ہے جبکہ ٹرمپ نے گزشتہ سال مئی میں یکطرفہ طورپر اُس تاریخی نیوکلیئر معاملت 2015 ء سے امریکی دستبرداری کا اعلان کردیا تھا ، جو اسلامی جمہوریہ اور عالمی طاقتوں کے درمیان طئے ہوئی تھی ۔ روحانی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر براہِ راست نشر کردہ تقریر میں کہا کہ ابتداء تحدیدات سے دستبرداری کے ساتھ ہونی چاہئے ۔ آپ کو قومِ ایران کے خلاف غیرقانونی ، غیرمنصفانہ اور غلط تحدیدات سے دستبرداری اختیار کرنا ہوگا ۔ مثبت تبدیلی کیلئے کلید بلاشبہ واشنگٹن کے ہاتھوں میں ہے ۔ ایرانی صدر نے کہا کہ تہران پہلے ہی اُن اندیشوں کو خارج کرچکا ہے جو امریکہ کو سب سے زیادہ لاحق ہیں کہ تہران کی جانب سے ایٹم بم تیار کیا جاسکتا ہے ۔ دیانتداری سے دیکھیں تو یہی آپ ( امریکہ ) کی فکرمندی ہے۔ اس کو پہلے ہی دور کیا جاچکا ہے جیسا کہ ایران کے روحانی رہنما آیت اﷲ علی خامنہ ای کے جاری کردہ فتوی میں واضح کردیا گیا ہے ۔ حسن روحانی نے کہاکہ ایٹم بم بنانے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ ہماری ملٹری کا نظریہ روایتی اسلحہ پر مبنی ہے ۔ خامنہ ای نے 2003ء میں نیوکلیائی ہتھیاروں کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا اور تب سے اس کا کئی مرتبہ اعادہ کیا جاچکا ہے لہذا پہلا قدم آپ کو اُٹھانا ہے ۔ اس قدم کے بغیر جاریہ تعطل ختم ہونے والا نہیں ۔
صدر روحانی ایک ہاؤزنگ پراجکٹ کے کام کی شروعات کے موقع پر منعقدہ تقریب سے مخاطب تھے ۔ بیاریز میں فرانسیسی صدر ایمانیول میکرن نے کہاکہ آئندہ چند ہفتوں میں ٹرمپ اور روحانی کے درمیان میٹنگ کیلئے سرگرمی کے ساتھ ڈپلومیسی اور مشاورتوں کے ذریعہ حالات سازگار بنائے جاچکے ہیں۔ ٹرمپ نے G-7 سمٹ کی قطعی نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ بلاشبہ مجوزہ ملاقات کے تعلق سے کھلا ذہن رکھتے ہیں ۔ انھوں نے مزید کہا کہ میکرن نے جو تاریخ تجویز کی ہے وہ حقیقت پسندانہ ہے۔ ٹرمپ کو اعتماد ہے کہ روحانی بھی اس کی تائید کریں گے ۔ ’’میرے خیال میں وہ (روحانی ) میٹنگ چاہتے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایران اس صورتحال سے نکلنا چاہتا ہے ‘‘۔ روحانی نے اشارہ دیا ہیکہ وہ امریکیوں کے ساتھ بات چیت منعقد کرنے کیلئے کھلا ذہن رکھتے ہیں لیکن اس معاملے میں حکومت کو اسلامی جمہوریہ کے کٹر قدامت پسندوں کی تنقیدوں کا سامنا ہے ۔
