سینیٹ میں 48 کے مقابلے 50 ووٹوں سے منظوری، یہ قرارداد ایوان نمائندگان نے پہلے ہی منظور کرلی تھی
واشنگٹن،24 جون (یو این آئی) امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے سے متعلق مشترکہ قرارداد منظور کر لی۔ سینیٹ میں یہ قرارداد 48 کے مقابلے میں 50 ووٹوں کی اکثریت سے منظور کی گئی۔ یہ قرارداد اس ماہ کے آغاز میں ایوانِ نمائندگان سے بھی منظوری حاصل کرچکی ہے ۔ امریکی سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے ، اس کے باوجود قرارداد کی منظوری کو قابلِ ذکر پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے ۔ روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ امریکی سینیٹ نے منگل کو ایک ایسی قانون سازی کی حمایت کی ہے ، جس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی روکنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ یہ کانگریس کی جانب سے ریپبلکن صدر کو تازہ ترین جھٹکا ہے ۔ تارکین وطن کیلئے خوشخبری، امریکی وفاقی جج نے امیگریشن عدالتوں کے باہر اور اندر گرفتاریوں پر پابندی لگا دی یہ قرارداد اس بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتی ہے جو ٹرمپ کے اپنے کچھ ری پبلکن ساتھیوں میں بھی پائی جاتی ہے ۔ یہ تشویش اس غیر مقبول جنگ کے حوالے سے ہے جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے شروع ہوئی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس کے دونوں ایوانوں نے 1973 میں وار پاورس ریزولیوشن (جسے عام طور پر وار پاورز ایکٹ کہا جاتا ہے ) کے نفاذ کے بعد پہلی بار کوئی ایسی قرارداد منظور کی ہے جس میں صدر کو امریکی مسلح افواج کو جنگی کارروائیوں سے ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہو۔ اگرچہ یہ ووٹ بڑی حد تک علامتی نوعیت کا ہی رہے گا، تاہم یہ ٹرمپ کیلئے ایک دھچکا ضرور ہے ، جنھیں حال ہی تک کانگریس کے ریپبلکن اراکین کی تقریباً متفقہ حمایت حاصل تھی۔ یہ قرارداد ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب انتظامیہ کانگریس سے جنگ کے اخراجات کیلئے دسیوں ارب ڈالر کی منظوری مانگنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں ٹرمپ کے ری پبلکنز کو معمولی اکثریت حاصل ہے ، لیکن نومبر میں آنے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے چند اراکین نے کچھ معاملات پر صدر سے اختلاف کیا ہے ۔ یہ انتخابات یہ طے کریں گے کہ پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ پائے گی یا نہیں۔
ٹرمپ کا بڑی آئل کمپنیوں کیخلاف تحقیقات کا حکم
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے گررہی ہیں لیکن صارفین کو کوئی راحت نہیں
واشنگٹن:24جون ( ایجنسیز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پٹرول کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی نہ آنے پر بڑی تیل کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے گر رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود صارفین کو کوئی راحت نہیں دی جارہی ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ بڑی آئل کمپنیاں خام تیل کم قیمت پر خرید رہی ہیں مگر پٹرول پمپوں پر قیمتیں اسی تناسب سے کم نہیں کی جا رہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ کمپنیاں صارفین سے غیر منصفانہ منافع کما رہی ہیں اور عوام کو زائد قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق خام تیل کی قیمتیں کم ہورہی ہیں لیکن پٹرول کی قیمتوں میں اس کے مطابق کمی نہیں ہو رہی۔یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں ایندھن کی قیمتیں ایک اہم سیاسی مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ ملک میں زیادہ تر لوگ روزمرہ سفر کے لیے گاڑیوں پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عوامی زندگی اور سیاسی ماحول پر اثر انداز ہوتا ہے۔فروری میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل محدود کر دی تھی، جس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا۔بعد ازاں ایران اور امریکہ کے درمیان ابتدائی معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکروں کی آمدورفت بحال ہونے لگی، جس سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔ تاہم امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس نہیں آ سکیں۔صدر ٹرمپ کو اپوزیشن اور بعض معاشی ماہرین کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی بحران نے امریکی صارفین پر اضافی بوجھ ڈالا۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر پٹرول کی قیمتوں پر آنے میں وقت لگ سکتا ہے، اور قیمتیں فوری طور پر جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آنے کا امکان کم ہے۔ادھر امریکی کانگریس کے انتخابات قریب آنے کے باعث ایندھن کی قیمتوں کا مسئلہ سیاسی طور پر مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔