واشنگٹن/دوحہ : امریکی سینیٹرز نے پاکستان و افغانستان کے لیے امریکی سینیٹ میں معاشی بل متعارف کر ادیا۔ڈیمو کریٹ سینیٹر کرس وین ہو لین، ماریہ کینٹ ویل اور ری پبلکن ٹوڈینگ نے یہ بل متعارف کرایا ہے۔اس بل کے قانون بننے سے افغانستان اور پاکستان کے لیے معاشی فوائد پیدا ہوں گے۔ اس حوالے سے ڈیمو کریٹ رہنما طاہر جاوید نے کہا کہ یہ بل منظوری کے بعد قانون کا حصہ بن گیا تو 10سال کے لیے پاکستان کو بہت فائدہ ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ معاشی بل خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے متعارف کرایا گیا ، بل کے تحت پاک افغان سرحدی علاقوں میں تعمیر نو کے زون کا قیام ہو گا۔طاہر جاوید نے بتایا کہ قانون سازی کے ذریعے ٹیکسٹائل کا سامان بغیر ڈیوٹی امریکا بھجوایا جا سکے گا، اس بل کے بعد پاکستان کی امریکہ کے لیے ایکسپورٹ 10 گنا بڑھ سکتی ہے۔ معاشی بل کو قانون بنوانے کے لیے 60 ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔قطر کے دارالحکومت دوحا میں افغانستان مسئلے کے پرامن حل پر چار ملکی مذاکرات ہوئے جن میں پاکستان، امریکہ ، روس اور چین کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں انٹرا افغان مذاکرات کی حمایت کرنے پر تبادلہ خیال ہوا تاکہ افغانستان میں مستقل قیام امن اور جنگ بندی کی راہ ہموار ہوسکے، چاروں ممالک کے نمائندوں نے مذاکرات میں حصہ لینے والی افغان طالبان کی ٹیم اور قطر کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی۔مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ افغان مسئلہ کا کوئی عسکری حل ممکن نہیں صرف افغانوں کے مابین سیاسی مذاکرات کے ذریعہ ہی حل ممکن ہے، غیرملکی افواج کے انخلا سے اقتدار کی پرامن منتقلی ہونا چاہیے جس کے دوران امن عمل کو متاثر نہیں ہونا چاہیے، طالبان انسداد دہشت گردی کے اپنے وعدے پورے کریں، دوسرے ممالک کی سلامتی کو افغان سرزمین سے گزند نہیں پہنچنی چاہیے، افغانستان میں لڑائی بند ہو اور بین الاقوامی افواج کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔
