بغداد 29 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی زیر قیادت اتحادی افواج نے شمالی عراق کے ایک فوجی اڈے سے آج اتوار کو دستبرداری اختیار کرلی ہے ۔ اسی فوجی اڈے سے امریکہ نے پڑوسی ملک ایران کے خلاف عملا جنگ کا آغاز کیا تھا ۔ امریکہ عراق میں مختلف مقامات سے اپنی افواج کو دستبردار کرنا چاہتا ہے تاہم دو مقامات پر اس کی افواج کو مستحکم کیا جائیگا ۔ امریکہ نے آج عراق میں K1 فوجی اڈے سے دستبرداری اختیار کرلی ہے جو جاریہ ماہ تیسرا فوجی اڈہ ہے جسے امریکہ نے خالی کردیا ہے ۔ گذشتہ سال ڈسمبر کے اواخر میں اس فوجی اڈے کو ایک راکٹ حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجہ میں ایک امریکی کنٹراکٹر ہلاک ہوگیا تھا اور اس کے بعد امریکہ اور ایران کی تائید والے عراقی ملیشیا گروپس کے مابین حملوں اور جوابی حملو کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا تھا ۔ ان حملوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ نے ایران کے ایک اعلی جرنیل قاسم سلیمانی اور سینئر عراقی ملیشیا لیڈر ابو مہدی المہندس کی ہلاکت کا حکم دیا تھا جنہیں عراق میں ایک ڈرون حملہ کرتے ہوئے ہلاک کردیا گیا تھا ۔ آج موصولہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ اتحادی افواج نے K1 فوجی اڈہ کا تخلیہ کردیا ہے جو شمالی عراقی صوبہ کرکک میں واقع تھا ۔ اس فوجی اڈہ کو عراقی فوج کے حولے کردیا گیا ہے ۔ اتحادی افواج نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے یہ بات بتائی ہے ۔ واضح رہے کہ یہ دستبرداری ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جبکہ کرکک کے آس پاس کے علاقوں جیسے دیالہ ‘ صوبہ صلاح الدین اور صوبہ نینوا میں آئی ایس کی سرگرمیاں ہنوز جاری ہیں۔ اس علاقہ پر وفاقی عراقی حکومت اور خود مختار کرد علاقہ کے مابین تنازعہ بھی پایا جاتا ہے ۔ اس اختلاف کے نتیجہ میں یہاں سکیوریٹی مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں جن سے آئی ایس کے عسکریت پسندوں نے فائدہ اٹھایا ہے ۔ اتحادی افواج کی موجودگی کے دوران دونوں فریقین کے مابین اختلافات کو کم کرنے کی کوششیں بھی کی گئی تھیں ۔ اتحادی فوج کے ایک سینئر عہدیدار نے گذشتہ دنوں میں بتایا تھا کہ امریکی افواج کی دستبرداری کے باوجود آئی ایس گروپ اب اس موقف میں نہیں ہے کہ یہاں وہ سکیوریٹی صورتحال کا استحصال کرسکے ۔
