امن بورڈ کے فوری بعد جنگ کا خبط

   

ہم اُن ساری کتابوں کو قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں
جنہیں پڑھ کر بیٹے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف جنگ اور فوجی کارروائیوںکا انتباہ دیا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ علاقہ میں امریکہ کے ائر کرافٹ کیرئیر وغیرہ کی تعیناتی عمل میں لائی جا رہی ہے ۔ اسرائیل صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہے اور در پردہ وہ اپنے طور پر بھی تیاریاں شروع کرچکا ہے ۔ یہ حالات اس وقت پیش آ رہے ہیں جب یہ تاثر عام ہونے لگا تھا کہ ایران میں صورتحال معمول کی سمت بحال ہو رہی ہے اور امریکہ نے بھی کچھ خفیہ سفارتی کاوشوں کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا اراردہ ترک کردیا ہے ۔ اب ایک بار پھر اچانک سے ٹرمپ کی جانب سے جنگی جنون کا اظہار کیا جانے لگا ہے ۔ ابھی 24 گھنٹے قبل ہی ہی بات ہے جب ٹرمپ نے سوئیٹزرلینڈ کے ڈاؤس میں امن بورڈ کے قیام کا اعلان کیا تھا ۔ یہ امن بورڈ حالانکہ غزہ کیلئے قائم کیا گیا تھا اور اس کی اصل ذمہ داری غزہ میں جنگ بندی کے بعد کے مراحل پر عمل کرنا تھا تاہم ٹرمپ نے اس کو توسیع دی تھی اور کہا تھا کہ یہ امن بورڈ دنیا میں جہاں کہیں جنگ و جدال کی اور ٹکراؤ کی کیفیت ہے اس کو دور کرنے کیلئے کام کرے گا ۔ امن بورڈ قائم کرنے اور دنیا میں قیام امن کی کوشش کرنے کا دعوی کرنے کے اندرون 24 گھنٹے ٹرمپ کی جانب سے ایک بار پھر جنگی خبط کا اظہار کیا جانے لگا ہے جو نہ صرف مشرق وسطی اور خلیج فارس بلکہ ساری دنیا کیلئے تشویش کا باعث ہوسکتا ہے ۔ ایک طرف ٹرمپ گرین لینڈ جزیرہ کو بہر صورت اور بہر قیمت حاصل کرنے کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں تو دوسری جانب وہ ایران کے خلاف ایک اور جنگ مسلط کرنے کے ارادوں کا اظہار کر رہے ہیں اور جنگی تیاریاوں کا بھی آغاز کیا جانے لگا ہے ۔ مشرق وسطی میں اب یہ خدشے ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ آئندہ چند دنوں میں خلیج میں امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کو متعین کردیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ اطراف کے فوجی اڈوں پر فوجی و جنگی طیاروں کی تعیناتی بھی عمل میں لائی جائے گی ۔ اس کے علاوہ مشرق وسطی میں کچھ دوسرے جنگی جہازوں کو متعین کردئے جانے کی بھی اطلاع ہے اور اس کی تصدیق ہونے لگی ہے ۔
ڈونالڈ ٹرمپ اپنے اقدامات سے ساری دنیا کو اتھل پتھل کا شکار کرنے لگے ہیں۔ وہ ایک طرف اپنی دوسری صدارتی معیاد میں آٹھ جنگیں رکوانے کا دعوی کررہے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ انہیں امن کا نوبل انعام دیا جائے ۔ جب یہ نہیں ملا تو گرین لینڈ جزیرہ کے تعلق سے ان کے عزائم جارحانہ ہوگئے ۔ ایران میں عوامی احتجاج کو ہوا دینے اور اسے اسپانسر کرنے کے الزامات بھی ٹرمپ اور اسرائیل پر عائد ہوئے ۔ ٹرمپ نے ایران کو راست انتباہ دیا تھا کہ وہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کرے ورنہ امریکہ مداخلت کرنے سے گریز نہیں کرے گا ۔ ایران نے بھی مشرق وسطی میںامریکی ٹھکانوں اور فوجیوںکو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی ۔ یہ دعوی کیا جا رہا تھا کہ ایران نے امریکہ کو کوئی سفارتی پیام بھیجا تھا جس کے بعد ٹرمپ کے رویہ میں نرمی پیدا ہوگئی تھی ۔ ایران میں مظاہروں کا سلسلہ بھی تھم گیا ہے ۔ مظاہرین بھی خاموش ہوگئے ہیں بلکہ انہوں نے ٹرمپ پر مظاہرین کو دھوکہ دینے اور ان کے ساتھ دغاء کرنے کا الزام عائد کیا تھا ۔ حالات جب معمول پر آنے کے اشارے مل رہے تھے اسی وقت ٹرمپ ایک بار پھر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا اشارہ دینے لگے ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی غیر متوقع اور غیر معمولی کہی جاسکتی ہے ۔ ٹرمپ کس وقت کیا کہہ رہے ہیں یا کیا کر گذریں گے یہ اندازہ کرنا کسی کیلئے بھی آسان نہیں رہ گیا ہے ۔ ٹرمپ کا ہر بیان اپنے پہلے بیان سے مختلف اور الگ ہی تاثر دینے کا سبب بن رہا ہے ۔
ٹرمپ کے بیانات اور اقدامات سے ساری دنیا میں اتھل پتھل کی کیفیت پیدا ہونے لگی ہے اور دنیا ان کی سوچ کو سمجھنے سے قاصر نظر آ رہی ہے ۔ تاہم یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ ٹرمپ ایران کے تعلق سے کچھ اچھے عزائم نہیں رکھتے اور وہ اسرائیل کی شہہ پر ایران کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کو اس طرح کی حرکتوں سے باز آجانے کی ضرورت ہے اور دنیا میں امن و استحکام کیلئے کام کرنا چاہئے ۔ ساری دنیا پرا مریکی تسلط اور اسرائیل کی اجارہ داری کی اجازت نہیںد ی جاسکتی ۔ دنیا کے مختلف ممالک کو اسی طرح متحد ہونے کی ضرورت ہے جس طرح شرحوں کی دھمکی پر ناٹو کے ممالک متحد ہوئے تھے اور ٹرمپ نے شرحوں سے متعلق فیصلہ بدل دیا تھا ۔