امیدواروں کے مجرمانہ ریکارڈ معاملہ پر سماعت کیلئے سپریم کورٹ آمادہ

   

امیدواروں کی مجرمانہ تاریخ چھپانے والی سیاسی پارٹیوں کی رجسٹریشن روک دینے کا مطالبہ

نئی دہلی: سپریم کورٹ انتخابی میدان میں اترنے والے امیدواروں کے مجرمانہ تفصیل عوامی نہ کرنے پر متعلقہ سیاسی پارٹیوں کی تصدیق رد کرنے کے مطالبہ سے متعلق ایک مفاد عامہ کی عرضی پر جلد سماعت کے لئے منگل کو تفق ہوگیا۔ عرضی گزار بھارتیہ جنتا پارتی کے رہنما اور وکیل اشونی کمار اپادھیائے نے آج چیف جسٹس این وی رمنا کی صدارت والی بنچ کے سامنے ‘خصوصی ذکر’کے تحت جلد سماعت کا مطالبہ کیا،جسے عدالت نے منظور کرلیا۔ اپادھیائے نے اترپردش اسمبلی الیکشن کے لئے نامزدگی کے عمل کو شروع ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے پیر کو دائر کی گئی اپنی عرضی کو ‘فوری سماعت کے قابل بتاتے ہوئے جلد سماعت کی اپیل کی گئی تھی۔ عرضی گزار نے بتایاکہ عرضی میں سپریم کورٹ سے عرض کیا گیا ہے کہ عدالت الیکشن کمیشن کو یہ ہدایت دے کہ وہ سماج وادی پارٹی سمیت ان سیاسی پارٹیوں کے رجسٹریشن رد کردے ،جو الیکشن کے ئے اپنے امیدواروں کی مجرمانہ تاریخ کا انکشاف نہیں کرتے ہیں۔ اپادھیائے نے اپنی عرضی میں الزام لگایا ہے کہ اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں کیرانا پارلیمانی حلقے سے سماج وادی پارٹی نے ناہید حسن کو انتخابی میدان میں اتارنے کا اعلان کیا ہے ۔ان کا الزام ہے کہ حسن ایک گینگسٹر ہے لیکن سماج وادی نے اس امیدوار کے مجرمانہ ریکارڈ کو اخبارات، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں شائع اور نشر نہیں کیا،اور نہ ہی اس کے انتخابات کی وجہ بتائی ہے ۔ عرضی گزار کا کہنا ہے کہ امیدواروں کے مجرمانہ ریکارڈ کے بارے میں معلومات نہ دینا سپریم کورٹ کے فروری 2020 کے فیصلے کے خلاف ہے ۔ اپادھیائے کا کہنا ہے کہ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ امیدواروں کے ناموں کا اعلان کرتے وقت سیاسی پارٹیوں کے لئے متعلقہ افراد کا مجرمانہ ریکارڈ عوامی کرنا لازمی ہے ۔