’امید ہے سپریم کورٹ سے راحت ملنے کے بعد پہلے کی طرح نماز ہوگی‘

   

ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد پہلے جمعہ پر بھوج شالہ میں سخت سکیوریٹی، پورا علاقہ فوجی چھائونی میں تبدیل
دھار، 22 مئی (یواین آئی) مدھیہ پردیش کے دھار میں واقع تاریخی بھوج شالا سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد جمعہ کے پہلے دن کے پیشِ نظر انتظامیہ نے شہر میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات نافذ کر دیے ہیں۔ بھوج شالہ احاطہ اور اطراف کے علاقوں کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ پورے شہر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے ۔ انتظامیہ کے مطابق بھوج شالہ احاطہ کے 200 میٹر دائرے میں خصوصی سکیورٹی کا انتظام کیا گیا ہے ۔ شہر کی سکیورٹی کو تین سطحی نظام میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ کوئیک رسپانس ٹیم (کیو آر ٹی) کو فعال رکھتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع ملنے پر موٹر سائیکل سوار پولیس ٹیم 90 سیکنڈ کے اندر موقع پر پہنچ جائے گی۔ سکیورٹی انتظامات کے لیے مقامی پولیس کے علاوہ بھوپال، مندسور، رتلام اور اندور دیہی علاقوں سے اضافی نفری طلب کی گئی ہے ۔ دو کمپنیاں سی آر پی ایف، دس کمپنیاں ایس اے ایف، چار ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، 15 ڈی ایس پی، 30 تھانہ انچارج، خواتین پولیس، ٹریفک پولیس سمیت تقریباً 2200 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ چار ڈرون کیمروں اور 250 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے ۔ گھڑسوار دستہ، ڈاگ اسکواڈ، بم ناکارہ بنانے والا دستہ اور لائٹ مشین گنیں بھی سکیورٹی کا حصہ ہیں۔ اسی دوران سخت حفاظتی انتظامات کے بیچ جمعہ کی صبح ہندو برادری کی جانب سے بھوج شالا میں پوجا پاٹ کا آغاز کیا گیا۔ عقیدت مندوں نے ماں واگ دیوی کو چنری پیش کی اور پوجا کے بعد گربھ گرہ کو سجایا۔ دوپہر میں مہا آرتی کے انعقاد کی تجویز ہے ، جس میں بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کی شرکت متوقع ہے ۔ بھوج شالہ احاطہ کے اندر الیکٹرانک آلات اور میٹل ڈیٹیکٹرز کے ذریعہ سخت تلاشی مہم چلائی گئی۔ پولیس اور انتظامی افسران نے موقع پر پہنچ کر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔ دھار کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سچن شرما خود گھڑسوار دستے کے ساتھ علاقے میں گشت کرتے نظر آئے ۔ عبدالصمد، صدر کمال مولی مسجد، نے کہا کہ مسلم سماج کی جدوجہد آئینی اور قانونی دائرے میں ہے اور سبھی لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ سے راحت ملنے کے بعد پہلے کی طرح نماز ادا کی جا سکے گی۔
دھار کے کلکٹر راجیو رنجن مینا نے عوام سے افواہوں سے دور رہنے اور انتظامیہ سے تعاون کرنے کی اپیل کی، جبکہ پولیس سپرنٹنڈنٹ سچن شرما نے کہا کہ سرگرمیاں آرکیالوجی سروے آف انڈیا اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق چلائی جائیں گی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔