امین پور میں حیڈرا کی انہدامی کارروائی ، تعمیرات کیلئے عہدیداروں سے اجازت نامے

   

اراضی معاملت میں ملوث سیاسی قائدین اور عہدیداروں کے خلاف بھی کارروائی کی ضرو رت
حیدرآباد۔12اپریل(سیاست نیوز) امین پور میں ہوئی ’حیڈرا‘ کی کاروائی کے بعد معصوم عوام بالخصوص وہ لوگ جنہوں نے بینکوں سے قرض حاصل کرتے ہوئے فلیٹس اور جائیدادیں خریدی تھیں وہ سڑک پر آچکے ہیں لیکن ’حیڈرا‘ محض انہدامی کاروائی کرتے ہوئے سرکاری اثاثہ جات کے تحفظ کے اقدامات کررہا ہے جبکہ امین پور میں جن لوگوں نے ان اراضیات کو فروخت کیا ہے اور جن عہدیداروں نے ان اراضیات کی معاملتوں کو درست قرار دیتے ہوئے تعمیراتی اجازت نامہ فراہم کیا ہے ان کے خلاف کسی بھی طرح کی کاروائی نہ کئے جانے پر مختلف گوشوں سے سوال اٹھائے جانے لگے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ ’حیڈرا‘ کے ذریعہ جن جائیدادوں کے تحفظ کے نام پر حاصل کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں ان جائیدادوں کو محکمہ مال اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے دوبارہ فروخت کرنے کی منصوبہ بندی جا رہی ہے ۔ عوامی مقامات بالخصوص تالاب‘ پارکس ‘ فٹ پاتھ ‘ کھیل کے میدان کے لئے مختص اراضیات پر کئے جانے والے قبضہ جات کو برخواست کرواتے ہوئے ان کے تحفظ کو یقینی بنانا اپنی جگہ لیکن سینکڑوں ایکڑ اراضیات جن پر کروڑہا روپئے کی تعمیرات کی جاچکی ہیں ان کی انہدامی کاروائی کے بعد ان جائیدادوں پر قبضہ کرتے ہوئے فروخت کرنے والوں کے خلاف کسی بھی طرح کی کاروائی نہ کئے جانے پر کہا جار ہاہے کہ جن سرکاری اراضیات کی فروخت کی معاملتوں سے عہدیدار اور سیاسی قائدین واقف ہیں وہ ان جائیدادوں کی نشاندہی کرواتے ہوئے ’حیڈرا‘ کے ذریعہ انہیں دوبارہ واپس حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ ایلا پور ‘ امین پور میں ’حیڈرا‘ نے 861 ایکڑ اراضی کے حصول کی جو کاروائی کی ہے ان اراضیات کی فروخت کی معاملتوں میں بیشتر تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں اور کہا جار ہاہے کہ اس علاقہ میں انتہائی قیمتی اراضی کی فروخت کے دوران برسراقتدار اور اپوزیشن جماعت دونوں کے ہی قائدین نے فائدہ حاصل کیا ہے اور کروڑہا روپئے کی معاملتوں میں ملوث رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سروے نمبر 1تا220 میں مجموعی اعتبار سے 1263 ایکڑ اراضی موجود ہے جس میں زائد از 40ایکڑ اراضی پر کی گئی اس کاروائی کے دوران سینکڑوں مکانات کو منہدم کرتے ہوئے معصوم عوام کوجنہوں نے اس متنازعہ اراضی کو خریدتے ہوئے مکان بنائے تھے منہدم کردیاگیا۔مبینہ طورپر2006 میں موجودہ تلنگانہ فوڈ کارپوریشن کے صدرنشین ایم اے فہیم کے حقیقی بھائی ایم اے مقیم نے اس سرکاری اراضی کو فروخت کرتے ہوئے کروڑہا روپئے حاصل کئے تھے۔ ’حیڈرا‘ کی کاروائی کے دوران جن لوگوں کی جائیدادیں متاثر ہوئی ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت واقعی سرکاری اراضیات پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنا چاہتی ہے تو ان تمام لوگوں کے خلاف کاروائی کو یقینی بنایا جانا چاہئے جن لوگوں نے ایلا پور‘ امین پور میں واقع مذکورہ سروے نمبرات میں موجود جائیداد کی غریب عوام کو فروخت کے لئے راہ ہموار کی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں آندھراپردیش ہائی کورٹ نے اس اراضی پر حکم التواء جاری کیا تھا اور اس حکم التواء کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس اراضی پر جو تعمیرات کی گئی تھیں انہیں منہدم کیاگیا ہے حالانکہ ان میں بیشتر جائیدادوں پر کی جانے والی تعمیرات کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ ان تعمیرات کے لئے اجازت نامہ بھی حاصل کیا گیا تھا اور ان میں کئی جائیدادوں پر بینکوں اور خانگی اداروں نے دستاویزات کی جانچ کے بعد قرض بھی منظور کیا ہوا ہے ۔ ’حیڈرا‘ کی اس کاروائی کے دوران یہ دعویٰ کیا جار ہاہے کہ ’حیڈرا‘ نے مجموعی اعتبار سے 15 ہزار کروڑ کی جائیدادکے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ یقینا ’حیڈرا‘ نے اگر سرکاری اراضیات کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے تو اس بات کی سراہنا کی جانی چاہئے لیکن مذکورہ سروے نمبرات میں 495 ایکڑ پر محیط راج گوپال نگر کالونی ‘ 131ایکڑ پر محیط ودیوت ایمپلائز کوآپریٹیو ہاؤزنگ سوسائیٹی ‘ بھی موجود ہے جو مقدمہ کے فیصلہ کا انتظار کر رہے ہیں۔ شہر حیدرآباد کے نواحی علاقہ میں موجود اس انتہائی قیمتی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں کئے جانے والے دعوؤں کے دوران متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان اراضیات کی فروخت کرنے والوں کے علاوہ ان عہدیداروں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کے اقدامات کرے جن عہدیداروں نے ان اراضیات کی معاملتوں کو انجام دیا ہے۔ بتایا جاتاہے کہ متحدہ آندھراپردیش میں شروع کی جانے والی اس فروخت میں اس وقت کے کئی سرکردہ سیاستداں اور عہدیدار ملوث ہیں جنہیں سینکڑوں کروڑ روپئے ان معاملتوں سے حاصل ہوئے ہیں ۔ایلا پور میں ’حیڈرا‘ کی اس کاروائی کے متاثرین جو دعویٰ کررہے ہیں ان دعوؤں کو ’حیڈرا‘ کے عہدیدارمسترد کرتے ہوئے یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں ان سروے نمبرات میں جن لوگوں نے اراضیات خریدی ہیں ان کے پاس محض نوٹری کے دستاویزات ہیں۔3/M/Y