انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے کی کوشش

   

بی جے پی اور بی آر ایس دونوں فائدہ اٹھانے کوشاں ، ضلعی سطح پر کمیٹیوں کے ذریعہ امن و امان کی برقراری کو یقینی بنانے کی ضرورت
حیدرآباد۔22 ۔مارچ(سیاست نیوز) ریاست میں انتخابات سے قبل فسادات کی صورت میں مرکز میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی اور تلنگانہ میں اقتدار پر موجود بھارت راشٹر سمیتی دونوں کو ہی فائدہ حاصل ہوگا۔ ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ریاست کے تمام اضلاع بالخصوص فرقہ وارانہ طور پر حساس علاقوں میں متفکر شہری اپنے ضلع کے بزرگوں اور نوجوانوں پر مشتمل کمیٹیوں کی تشکیل کے ذریعہ امن و امان کی برقراری کے لئے اقدامات کو یقینی بنائیں کیونکہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ریاست کے امن وامان کو نقصان پہنچاتے ہوئے سیاسی اغراض و مقاصد کے حصول کی کوششیں کی جاسکتی ہیں کیونکہ ریاست بھر میں نفرت کی سیاست کو فروغ دینے کے لئے کی جانے والی کوششوں کو ہوا دی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت مخصوص طبقہ کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے امن وامان کی برقراری کے لئے اقدامات کے دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن ریاست کے مختلف اضلاع میں ہندو توا تنظیموں بالخصوص بجرنگ دل کو ترشول کی تقسیم کی تقاریب منعقد کرنے کی اجازت دی جانے لگی ہے جو کہ فرقہ وارانہ حساس اضلاع میں اقلیتوں میں خوف و دہشت کا ماحول تیار کرنے کے مترادف ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کسی بھی ریاست میں انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرتے ہوئے شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر منقسم کرنے کی کوشش میں بڑی حد تک کامیاب ہوتی آئی ہے لیکن جنوبی ہندکی ریاستوں میں بی جے پی کے لئے اس طرح کی حرکت کو حماقت قرار دیا جا رہاہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاست میں برسراقتدار سیاسی جماعت کی جانب سے ہندو توا تنظیموں کے لئے راہیں ہموار کرتے ہوئے ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے جو کہ ریاست کے اضلاع اور دیہی علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کے لئے تشویش کا باعث بنتی جارہی ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور بھارت راشٹر سمیتی اگر فرقہ وارانہ کشیدگی کے ذریعہ اکثریتی طبقہ کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسی صورت میں ریاست بھر میں مسلمانوں کی جانب سے دونوں کے متبادل پر غور کیاجاسکتا ہے اور کانگریس کی جانب سے مسلمان متوجہ ہوسکتے ہیں لیکن اس طرح کے حالات کو پیدا ہونے نہ دینے کے لئے اگر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوتے ہوئے مسلم قائدین اپنے اپنے اضلاع و علاقوں میں دیگر طبقات کے ساتھ ملکر امن و امان کی برقراری کے لئے اقدامات کرتے ہیں تو ایسی صورت میں اس کے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔م