انتخابات میں اسد اویسی کو کمرہ میں بند کرنے کا مشورہ دینے والے عالم کی کار کو حادثہ

   

ساتھی جاں بحق، حیدرآباد کے خانگی ہاسپٹل میں زیر علاج، بنگلور میں علاج کے خواہشمند
حیدرآباد۔/31 اکٹوبر، ( سیاست نیوز)تلنگانہ کی مسلم قیادت پر بے باک تقاریر کیلئے مشہور کرناٹک کے ممتاز عالم دین مولانا پی ایم مزمل والا جاہی کاماریڈی میں کار حادثہ میں شدید زخمی ہوگئے۔ حادثہ میں مولانا مزمل والا جاہی کے ساتھی جاں بحق ہوئے جبکہ دیگر افراد معمولی زخمی ہوئے۔ مولانا مزمل رشادی والا جاہی ناظم ادارہ منبع الرشاد و خلیفہ مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کی کار بے قابو ہوکر حادثہ کا شکار ہوگئی۔ یہ واقعہ صبح کی ابتدائی ساعتوں میں کاماریڈی میں پیش آیا۔ مولانا مزمل رشادی پربھنی میں پروگرام میں شرکت کے بعد بنگلور واپسی کیلئے سڑک کے راستہ براہ کاماریڈی حیدرآباد آرہے تھے ، انہیں صبح 6 بجے حیدرآباد ایر پورٹ پہنچنا تھا ایک ڈی سی ایم ویان کو اوور ٹیک کرتے وقت تیز رفتار کار بے قابو ہوکر حادثہ کا شکار ہوگئی۔ مقامی افراد کے مطابق صبح تقریباً 3 بجے ایک دھابہ کے قریب یہ حادثہ پیش آیا جس کے بعد مقامی افراد نے مولانا مزمل اور ساتھیوں کو گورنمنٹ ہاسپٹل منتقل کیا۔ کار میں پانچ افراد سوار تھے اور حادثہ میں مولانا کے رفیق سفر جناب ذبیح اللہ جاں بحق ہوگئے۔ مولانا مزمل کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ریتی باؤلی خانگی ہاسپٹل منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔ آئی سی یو میں وہ زیر علاج ہیں۔ اسی دوران کانگریس کے سابق وزیر محمد علی شبیر نے جناب ذبیح اللہ کی میت کے بعد پوسٹ مارٹم بنگلور روانگی کا انتظام کیا۔ انہوں نے ہاسپٹل پہنچ کر مولانا مزمل والا جاہی سے ملاقات کی اور علاج کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ ڈاکٹرس نے بتایا کہ سر میں چوٹ کے سبب دماغ میں خون کا انجماد ہوا ہے جس کیلئے ضرورت پر سرجری کی جاسکتی ہے۔ مولانا مزمل نے ڈاکٹرس سے کہا کہ وہ بنگلور جانا چاہتے ہیں اور وہیں علاج کروائیں گے۔ ڈاکٹرس نے 24 گھنٹے آبزرویشن کے بعد فیصلہ کا تیقن دیا ۔ محمد علی شبیر نے علاج کے مکمل مصارف برداشت کرنے کا فیصلہ کیا اور ہاسپٹل حکام سے بات کی۔ ڈاکٹرس نے بتایا کہ زخموں کی پلاسٹک سرجری کی ضرورت پڑے گی۔ واضح رہے کہ مولانا مزمل والا جاہی نے حال میں صدر مجلس اسد اویسی کے دیگر ریاستوں میں انتخابی مقابلہ کی مذمت کرکے مسلمانوں کو مشورہ دیا تھا کہ انتخابات میں اسد اویسی کو کمرہ میں بند کردیں۔ تلنگانہ چھوڑ کر دیگر ریاستوں میں مداخلت بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اپنی ریاست میں تو کچھ نہ کرسے اور دوسری ریاستوں کی دیگچی میں منہ ڈال رہے ہیں جس سے نقصان امت کا ہورہا ہے۔ دشمن کو فائدہ پہنچانے کا کام کرنا بھی دشمن سے ملنے کے برابر ہے۔