انتخابات کا موسم اور ٹی وی مباحث

   

ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخابات کا عمل شدت اختیار کرچکا ہے۔ خاص طور پر اترپردیش میں مہم بہت شدت اختیار کرچکی ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں عوام کی تائید حاصل کرنے کی کوششوں کا آغاز کرچکی ہیں۔ ہر طرح کے ہتھکنڈے اختیار کئے جارہے ہیں۔ عوامی تائید حاصل کرنے ان کو سبزباغ دکھائے جارہے ہیں۔ جذباتی نعرے لگا کر بھی عوام کو مغلوب کرنے کی بھی کوشش ہورہی ہے۔ جلسے، ریالیوں اور گھرگھر جاکر عوام پر اثرانداز ہونے کے جتن بھی ہورہے ہیں لیکن اس ماحول میں نام نہاد قومی میڈیا کا رول انتہائی افسوسناک ہوگیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی ذمہ داریوں کو لیکر فراموش کرتے ہوئے غیراہم جذباتی مسائل میں رائے دہندوں کو الجھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے گنوایا نہیں جارہا ہے بلکہ ہر موقع کا استحصال کرتے ہوئے پیشہ ورانہ بددیانتی پر عمل کیا جارہا ہے۔ انتخابی موسم میں عوام کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے ان پر سیاسی جماعتوں کے پروگرامس اور وعدوں کا حوالہ دینے، حکومتوں کی سابقہ میعاد کی کارکردگی کا تنقیدی جائزہ لینے اور مستقبل کے منصوبوں کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی بجائے حجاب پر تنازعہ پیدا کیا جارہا ہے۔ گائے کے تعلق سے عقیدے کی باتیں ہورہی ہیں۔ مندروں کی تعمیر کے حوالے دیئے جارہے ہیں۔ دستور میں تبدیلی کی بات ہورہی ہے۔ مجاہدین آزادی کی ہتک کی جارہی ہے۔ ایسے جذباتی مسائل کو پیش کیا جارہا ہے جن کا عوام کی بھلائی اور فلاح و بہبود سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ ملک و قوم کی ترقی کیلئے تجاویز پیش نہیں کی جارہی ہیں۔ حکومت کے فیصلوں پر کوئی مباحث نہیں ہورہے ہیں۔ سابقہ میعاد میں حکومت کے کتنے وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے ان کی یاد دہانی نہیں کروائی جارہی ہے۔ کورونا بحران کے دوران عوام کو پیش آنے والی مشکلات اور اموات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جارہا ہے۔ حکومت کی ناکامیوں پر تبصرے نہیں ہورہے ہیں۔ اس کی بجائے حجاب کا مسئلہ بھڑکایا جارہا ہے۔ گائے کے تقدس کے قصیدے پڑھے جارہے ہیں۔ انسانوں کو پیش آنے والی مشکلات سے دانستہ چشم پوشی کی جارہی ہے اور عوام کی توجہ بھی ان بنیادی مسائل سے ہٹانے کی مذموم کوشش ہورہی ہیں۔
کارکردگی کو بنیاد بناتے ہوئے حکومتوں سے سوال کرنے کے بنیادی فریضے کو گودی میڈیا کے زرخرید اینکرس نے فراموش کردیا ہے۔ آر ٹی آئی کے تحت حاصل کردہ تفصیلات کے بموجب گذشتہ 5 سال میں اترپردیش میں ایک بھی ڈاکٹر کا تقرر نہیں کیا گیا۔ بجلی کی پیداوار میں ایک یونٹ کا بھی اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود میڈیا میں اس پر سوال نہیں ہورہا ہے۔ کورونا بحران میں میڈیکل شعبہ کی جو انتہائی بہتر صورتحال سامنے آئی اس کو پیش نہیں کیا جارہا ہے۔ عوام کو ایک ایک ڈاکٹر کی دستیابی مشکل ہوگئی تھی۔ اترپردیش کے کئی گاؤں میں آج بھی بجلی دستیاب نہیں ہے۔ مہنگائی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر سارا ہندوستان مباحث چاہتا ہے۔ حکومت سے جواب چاہتا ہے۔ سوال کئے جانے چاہئیں لیکن اس پر میڈیا کی خاموشی مجرمانہ ہے۔ بیروزگاری سے اس ملک کا نوجوان کئی مسائل کا شکار ہے۔ آج بیروزگاری اپنی انتہاء کو پہنچ رہی ہے۔ نوجوان بے بسی کا شکار ہورہے ہیں۔ جرائم کی سمت وہ راغب ہونے لگے ہیں۔ ان کا مستقبل غیریقینی ہورہا ہے۔ انہیں کوئی راہ یا امید دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ ان کی رہنمائی کرنا اور ان کے مفادات کیلئے حکومت سے سوال کرنا اور اسے خواب غفلت سے بیدار کرنا میڈیا کا فرض اولین ہے لیکن اس سے چشم پوشی کی جارہی ہے۔ فرائض سے فرار اختیار کیا جارہا ہے اور اس کی بجائے نزاعی اور اختلافی مسائل پر اشتعال انگیز مباحث کرتے ہوئے سماج میں بے چینی پیدا کرنے کا کام کیا جارہا ہے۔ یہ صحافتی اور میڈیا کے عہدوں کے بے جا استعمال کی بدترین مثال ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے۔ جو فرائض اس کے ذمہ ہیں ان کی تکمیل کی جائے۔ حکومتوں کو جھنجھوڑا جائے۔ ان سے سوال پوچھا جائے۔ سابق میں جو انتخابی وعدے کئے گئے تھے ان کی تکمیل کا جائزہ لیا جائے۔ وعدہ خلافیوں کو آشکار کیا جائے۔ نوجوانوں کے مستقبل کو سنوارنے تجاویز پیش کی جائیں۔ عوام کو حقیقی مسائل سے باخبر کرتے ہوئے انتخابات کے موسم میں ان کی رہنمائی کی جائے۔ اپوزیشن کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس کروایا جائے۔ اسی طرح سے میڈیا اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کرسکتا ہے ورنہ یہ ملک میں نراج پیدا کرنے کا ذریعہ ہی بن کر رہ جائے گا جس کا استحصال ہوتا رہے گا۔