ملک کی پانچ ریاستوںمیںانتخابات کا عمل چل رہا ہے ۔ دو ریاستوںمیں پولنگ مکمل ہوچکی ہے ۔ مزید تین ریاستوں میںرائے دہی ہونے والی ہے ۔ اترپردیش ان میںسب سے اہم اور سیاسی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ریاست ہے ۔ اترپردیش میں اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے بی جے پی سرگرم کوششیں کر رہی ہے ۔ عوام کے رد عمل سے ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کو مایوسی ہو رہی ہے ۔ اسی لئے انتخابی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ سماج میںنفرت پھیلانے کی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں اور اب تو رائے دہندوں کو دھمکانے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ اس طرح کی کوششیں کوئی مقامی قائدین نہیں بلکہ بڑے قائدین بھی کر رہے ہیں۔ جہاںارکان اسمبلی کی جانب سے ووٹرس کو دھمکایا جا رہا ہے وہیں ملک کے وزیر اعظم انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رائے دہی سے چند گھنٹے قبل ایک طویل انٹرویو دیتے ہیں جو کئی بلکہ تمام ہی ٹی وی چینلوں پر نشر کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح دوسرے مرحلے میں ووٹنگ سے عین قبل ریاست کے چیف منسٹر ایک انٹرویو دیتے ہیںاور وہ بھی رائے دہی کے آغاز پر نشر کیا جاتا ہے ۔ یہ در اصل انتخابی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں ہیںاور حیرت ہے کہ یہ خلاف ورزیاں کوئی مقامی لیڈر یا امیدوار نہیں بلکہ پارٹی کی اعلی قیادت کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔ وزیر اعظم کو اپنے عمل سے سارے ملک کیلئے ایک مثال پیش کرنا ہوتا ہے ۔ وہ انتہائی جلیل القدر عہدہ پر فائز ہیں۔ اسی طرح اترپردیش کے چیف منسٹر کا عہدہ بھی ایک اعلی دستوری عہدہ ہوتا ہے اوروہ ریاست کے عوام کیلئے ایک مثال ہوتے ہیں۔ یہی دونوں قائدین اپنے اپنے عہدوں کا وقار داؤ پر لگاتے ہوئے سیاسی داؤ پیچ میں مصروف ہوگئے ہیں اور عوام پر کیا اثرات مرتب ہونگے ان کا جائزہ لئے بغیر انٹرویوز دے رہے ہیںاور انہیں مختلف ٹی وی چینلوں پر نشر بھی کیا جا رہا ہے ۔ یہ میڈیا کی بھی دیانتداری پرسوال ہے کہ وہ بھی انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے ۔ جہاں وزیراعظم اور چیف منسٹر ایسا کر رہے ہیں تو ان کو غلطی کا احساس دلانے کی بجائے میڈیا اس کو نشر کر رہا ہے ۔
اترپردیش میں ایک رکن اسمبلی نے انتہائی متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ رکن اسمبلی منتخب ہوجاتے ہیں تو پھر ان کے حلقے کے مسلمان بھی تلک لگانے پر مجبور ہوجائیں گے ۔ یہ در اصل مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوشش ہے ۔ ایسا کرتے ہوئے بھی انہوں نے انتخابی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی ہے ۔ اسی طرح تلنگانہ میں بی جے پی رکن اسمبلی نے انتباہ دیا ہے کہ اترپردیش میں جو لوگ چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کو ووٹ نہیں دینگے انہیں انتخابات کے بعد نتائج کا سامنا کرنا پڑیگا کیونکہ حکومت نے ان کے گھروں کو مسمار کرنے کیلئے بلڈوزرس تیار رکھے ہیں۔ یہ ساری صورتحال انتخابی عمل سے کھلواڑ اور اس کا مضحکہ اڑانے کی کوشش ہے ۔ ایسا کرتے ہوئے قوانین کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ایوانوںمیں قانون سازی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو عوام میںاخلاقیات اور اصولوںکا درس دیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جومعمولی خلاف ورزیوںپر عوام پر بھاری جرمانے عائد کرتے ہیں۔ ان کے خلاف مقدمات درج کرتے ہیںاور انہیںجیلوںمیں بھیج دیا جاتا ہے لیکن جب خود پر بات آتی ہے تو تمام قوانین کو نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔ ان کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ ان سے کھلواڑ کیا جاتا ہے اور اپنے اقتدار اور کرسی کو بچانے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجاتے ہیںاور انہیں کسی بات کی پرواہ نہیں ہوتی ۔ اتنا سب کچھ ہو رہا ہے لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے میں بالکل خاموش ہے ۔
ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب رائے دہی سے ایک دن قبل کسی لیڈر نے کوئی انٹرویو دیا اور اسے ٹی وی چینلوں پر نشر کیا گیا تو اس کے خلاف مقدمات اور ایف آئی آر درج کرنے کی الیکشن کمیشن سے ہدایت جاری کی گئی تھی ۔ لیکن اترپردیش میں تقریبا تمام قوانین کو نظر انداز کردیا گیا ہے اور انہیں پامال کیا جا رہا ہے اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔ ایسی خلاف ورزیوں سے چشم پوشی کی جا رہی ہے ۔ ایسا کرنے والے قائدین کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے ۔ الیکشن کمیشن کے رول پر سوال پیدا ہونے لگے ہیں۔ کمیشن کو ایسے معاملات کا نوٹ لیتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی سے گریز نہیںکرنا چاہئے ۔
