نئی دہلی: لوک سبھا انتخابات کے چھٹے مرحلے میں ہفتہ کو راجدھانی دہلی میں ہونے والی ووٹنگ سے قبل انتخابات کے لیے مشینوں اور انتخابی سازو سامان کی تقسیم کے مراکز پر بڑے پیمانے پر افراتفری کی شکایت ملی ہے ۔ جس کی وجہ سے انتخابی کارکنوں کو شدید گرمی میں سامان لانے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ راجدھانی میں چلچلاتی گرمی کی وجہ سے ان مراکز میں افراتفری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چاندنی چوک پارلیمانی حلقہ کے سروودیا کنیا ودیالیہ بھارت نگر ٹریننگ سنٹر میں انتخابی سامان کے انتظار میں بیٹھا ایک ٹیچر بے ہوش ہو گیا اور اسے اسٹریچر پر ہاسپٹل لے جانا پڑا۔ ۔ اس سینٹر پر آئے الیکشن ورکر رمیش کمار نے ٹیلی فون پر بتایا کہ گھبراہٹ اور گرمی کی وجہ سے کئی گھنٹے انتظار میں بیٹھی اس ٹیچر کی طبیعت آہستہ آہستہ خراب ہونے لگی اور وہ اچانک بے ہوش ہوگئیں۔ ایک اور ٹیچر رچنا نے بتایا کہ تقریباً 45 ڈگری کے درجہ حرارت میں انتخابی کارکن صرف ایک خیمے کے نیچے تین سے پانچ گھنٹے انتظار کر رہے ہیں۔ الیکش سینٹر پہنچنے والے کئی انتخابی کارکنوں نے شکایت کی کہ ریاستی الیکشن دفتر نے انتخابی سازوسامان کی تقسیم کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ جب انتخابی کارکن شکایت کرتے ہیں تو سازوسامان تقسیم کرنے والے اہلکار وقفے وقفے سے اعلان کرتے ہیں کہ وہ انتظار کریں۔ انتخابی کارکنوں نے بتایا کہ ان کے ساتھیوں نے ٹیلی فون پر بتایا ہے کہ کم و بیش تمام سینٹروں پر افراتفری ہے ۔ دہلی الیکشن آفس نے جمعرات کو تمام انتخابی کارکنوں کو ایک پیغام بھیجا تھا اور انہیں انتخابی سازوسامان کی تقسیم کے لیے صبح اور دوپہر کی دو شفٹوں میں ان مراکز پر بلایا تھا۔
اس سینٹر میں مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے صبح کی شفٹ میں بلائے گئے انتخابی کارکنوں کو سامان مکمل طور پر تقسیم نہیں کیا جا سکا یہاں تک کہ دوپہر کی شفٹ شروع ہو گئی۔ دوسری شفٹ میں آنے والے انتخابی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں بھی اس چلچلاتی دھوپ میں کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑے گا۔ انتخابی کارکنوں کا کہنا ہے کہ الیکشن آفس کی جانب سے انہیں بھیجے گئے پیغام میں لکھا گیا ہے کہ اگر انہوں نے اس حکم پر عمل نہیں کیا تو ان کے خلاف عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سینٹر میں بدانتظامی کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چاہئے ۔ انتخابی کارکنوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تمام ریاستی حکومتوں اورانتخابات کرانے والی انتظامی مشینری سے کہا ہے کہ وہ چلچلاتی گرمی کو دیکھتے ہوئے ہر طرح کے مناسب انتظامات کریں اس کے باوجود اگر راجدھانی دہلی میں نظام کی یہ حالت ہے تو پھر دور دراز علاقوں میں کیا حال ہوگا اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔