ان کو ہی بڑے غور سے سنتی ہے یہ دنیا
وہ کہہ جو رہے ہیں وہ حقیقت بھی نہیں ہے
الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک کی چار ریاستوں آسام ‘ کیرالا ‘ ٹاملناڈو اور مغربی بنگال کے علاوہ مرکزی زیر انتظام علاقہ پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ کمیشن کی جانب سے انتخابی اعلان کے ساتھ ہی سیاسی سرگرمیوں میں تیزی اور شدت پیدا ہونے لگی ہے ۔ ویسے بھی کچھ عرصہ سے ان ریاستوں میں انتخابی اور سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی تھیں اور کمیشن کے اعلان کے بعد ان میں مزید تیزی آنے لگی ہے ۔ جس طرح سے سیاسی اور انتخابی سرگرمیاں شروع ہوئی ہیں اسی طرح سے سیاسی و انتخابی ہتھکنڈوں کا بھی آغاز ہوچکا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے کل ہی اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا تھا اور آج کمیشن کی جانب سے بنگال کے ڈائرکٹر جنرل پولیس اور چیف سکریٹری کا تبادلہ کردیا گیا ہے ۔ ویسے تو کمیشن کی جانب سے تبادلے کئے جاتے ہیں اور ان میں کوئی قباحت نہیں ہے تاہم بنگال میں خاص طور پر کسی شکایت کے بغیر ایسا کیا گیا ہے ۔ کسی گوشے سے کسی نے چیف سکریٹری یا ڈی جی پی کے خلاف کوئی شکایت نہیں کی تھی تاہم اچانک ہی ان دونوں کا تبادلہ کردیا گیا ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس فیصلے پر تنقیدیں کی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ کمیشن نے بی جے پی قائدین کی ایماء پر ایسا کیا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کا دعوی ہے کہ ان ریاستوں میں جہاں بی جے پی کی حکومت نہیں ہوتی الیکشن کمیشن اس طرح کے اقدامات کرتا ہے جبکہ کئی ریاستوں میں جہاں بی جے پی کی حکومتیں ہوتی ہیں وہاں اپوزیشن جماعتوں کی مسلسل شکایات کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی جاتی اور نہ کسی عہدیدار کا تبادلہ کیا جاتا ہے ۔ اترپردیش میں تو ایسا بھی ہوا کہ کچھ عہدیداروں کے رشتہ دار خود اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کر رہے تھے ۔ ان کی تعیناتی کے خلاف الیکشن کمیشن سے شکایات کی گئی تھیںاس کے باوجود کمیشن نے اپنی خاموشی کا سلسلہ ختم نہیں کیا اور نہ ہی عہدیداروں کا تبادلہ کیا گیا ۔ اسی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کمیشن پر جانبداری برتنے اور بی جے پی کی مدد کرنے کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں ۔
جس وقت سے اسمبلی انتخابات کا اعلان ہوا ہے اس سے قبل ہی سے بنگال میں یہ دعوی کیا جا رہا تھا کہ کمیشن ایسے اقدامات کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کے ذریعہ بی جے پی کو مدد فراہم کی جاسکے ۔ ایس آئی کے ذریعہ ہو یا پھر کسی اور طریقہ سے کمیشن لگاتار مرکز میں برسر اقتدار جماعت کی مدد کرنے جیسے اقدامات کر رہا تھا ۔ یہ کوششیں کمیشن کی غیرجانبداری پر سوال پیدا کر رہی تھیں۔ اپوزیشن لگاتار تنقید کر رہی ہے اس کے باوجود کمیشن کے طرز عمل میں کسی طرح کی تبدیلی درج نہیں کی گئی ہے بلکہ کمیشن اپنے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ جہاں تک بنگال میں چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کے تبادلوں کا سوال ہے تو کمیشن سے اس تعلق سے کسی نے کوئی شکایت نہیں کی تھی اور نہ ہی ان عہدیداروں کے خلاف کسی طرح کے مقدمات درج تھے ۔ ان عہدیداروں کی تعیناتی کو بھی بہت زیادہ وقت نہیں ہوگیا تھا ۔ اس کے باوجود کمیشن نے اچانک ہی کوئی وجہ بتائے بغیر تبادلے کردئے ہیں۔ کمیشن کو تبادلوں کو اختیار ضرور حاصل ہے لیکن کمیشن دستور کے مطابق کام کرنا چاہئے اور اسے کسی بھی جماعت کے سیاسی مفادات کا خیال کئے بغیر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کمیشن کو اپنی غیرجانبداری پر کوئی سوال پیدا کرنے کا موقع نہیں دینا چاہئے اور نہ ہی اپنی ساکھ متاثر ہونے جیسے کوئی کام کرنے چاہئیں۔ بنگال میں تاہم کمیشن نے ایسے اقدامات کا سلسلہ شروع کردیا ہے جن پر سوال پیدا ہونے لگے ہیں ۔ تاہم کمیشن کوئی جواب دینے کو تیار نہیں ہے ۔
ریاست میں اسمبلی انتخابات کا انعقاد انتہائی شفاف انداز میں اور غیر جانبدارانہ انداز میں ہونا چاہئے ۔ جو نام ایس آئی آر کے ذریعہ حذف کردئے گئے تھے اور ان میں جن ووٹرس نے اپنے دستاویزات جمع کروائے ہیں ابھی تک ان کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔ اس پر کمیشن کو توجہ کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ عہدیداروں کے تباولوں پر ۔ کمیشن کو ایسے کوئی بھی کام کرنے سے گریز کرنا چاہئے جن کی وجہ سے کمیشن کی ساکھ متاثر ہوتی ہو ۔ کمیشن کی غیرجانبداری پر سوال پیدا ہوتا ہو اور اس دستوری ادارہ کے کام کاج پر تنقید کی جاسکتی ہو۔ کمیشن کو خود اپنی ساکھ برقرار رکھنے اور اسے بہتر بنانے پر توجہ کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔