انجمن ترقی پسند مصنفین کے قومی اجلاس میں اردو کو نظر انداز کرنے پر برہمی

   

جبلپور: مدھیہ پردیش کی سنسکار دھانی یعنی دارالخلافہ تہذیب کہلانے والے شہر جبلپور میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی 81 ویں سہ روزہ قومی کانفرنس منگل کو اختتام پذیر ہوئی ۔ کانفرنس کا دوسرا دن ایک طرح سے اردو والوں کے نام رہا ، جب اردو کی نمائندگی کرنے والی دو خواتین نے اردو کو نظر انداز کرنے اور اس شیریں زبان کے کاز کو نقصان پہنچانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے منتظمین کو ہدف تنقید بنایا۔ بات کا سلسلہ دہلی یونیورسٹی سے وابستہ اردو کی پروفیسر ارجمند آرا نے شروع کیا ۔ دوسرے دن کے دوسرے اجلاس کا موضوع استحصال کے خلاص ثقافتی اظہار تھا ۔ اس کے تحت بولتے ہوئے ارجمند آرا نے کہا کہ اظہار کیلئے زبان کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ یہاں تو پر اثر اظہار کی حامل مبان اردو کو ہی منصوبہ بند ڈھنگ سے ختم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ جو تحریک اردو سے شروع ہوئی ، اس ی زبان کو میموری سے پورا صاف کیا جارہا ہے ۔ آپ لوگ نہ اردو لٹریچر پڑھتے ہیں نہ ہی اردو زبان کی تاریخ کو یاد رکھنا چاہتے ہیں ۔ آپ مشترکہ تہذیب کی بھی صرف بات کرتے ہیں، اسے اپنانا نہیں چاہتے۔ اگر آپ خود اس مشترکہ تہذیب کی روایت اپ نے گھر میں نہ ڈالیں گے تو پھر کس مشترکہ کلچر کی بات کرتے ہیں؟ کانفرنس میں موجود ہندوستان کے جانے مانے ادباء و دانشوران سے انہوں نے اپیل کی کہ اولاً وہ خود اردو کو اردو رسم الخط میں پڑھیں اور جب تک یہ نہ ہو تب تک وہ اپنی زبانوں میں موجود اردو ادب کا مطالعہ کریں لیکن افسوس کہ آپ وہ بھی نہیں کرنا چاہتے۔ مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ترقی پسند ادیبوں ، شاعروں کو ہندی اردو دونوں رسم الخط سیکھنا چاہئے لیکن ہندی والے دوسرا رسم الخط (اردو) سیکھتے ہی نہیں۔ اس سے قبل اتوار کو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معروف سماجی کارکن پدم شری سیدہ حمید نے ہندی کے عظیم طنز و مزاح نگار ہری شنکر پرسائی کو یاد کیا جن کے یوم پیدائش کی ایک صدی پوری ہونے پر اس کانفرنس کا انعقاد ان کے شہر میں کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے اپنے بزرگ خواجہ احمد عباس کا بھی تذکرہ کیا کہ انہوں نے ہی ہمیں ترقی پسند خیالات سے آگہی بخشی۔ انہوں نے لنچنگ ، الگاؤ واد اور منی پور ہنسا پر فکرمندی کا اظہارکیا۔