انجینئرنگ کورسس کی فیس میں اضافے پر این ایس یو آئی کا احتجاج

   

حیدرآباد۔ 4 جولائی (سیاست نیوز) این ایس یو آئی کے ریاستی صدر بی وینکٹ نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ انجینئرنگ کی فیس میں کمی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیئے گئے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وینکٹ نے کہا کہ ایک طرف انجینئرنگ کورسس کی فیس میں اضافہ کردیا گیا تو دوسری طرف حکومت فیس بازادائیگی اسکیم پر عمل آوری سے گریز کررہی ہے جس کے نتیجہ میں طلبہ اور ان کے سرپرستوں پر بھاری بوجھ پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت کے مقابلہ ٹی آر ایس دور حکومت میں انجینئرنگ فیس میں اضافہ ہوا ہے۔ بعض سیاسی قائدین کے انجینئرنگ کالجس ہیں اور وہ فیس کے تعین سے متعلق ریگولیٹری کمیٹی پر اضافے کے لیے دبائو بنارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو کالجس کو فائدہ پہنچانا ہے تو اسے فیس ری ایمبرسمنٹ پر عمل آوری کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کونسلنگ کے دوران کالجس نے مینجمنٹ اور این آر آئی کوٹے کی نشستوں کو فروخت کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایس یو آئی فیس میں اضافے کے خلاف احتجاج منظم کرے گی۔ این ایس یو آئی کے صدر نے کہا کہ اگر حکومت فیس میں اضافے پر قائم رہتی ہے تو انجینئرنگ کالجس کو چلنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کالجس کے مافیا کی حکومت سرپرستی کررہی ہے۔