انجینئرنگ کورسیس کیلئے جے این ٹی یو کی فیس میں اضافہ

   

عمل آوری کے بارے میں اُلجھن برقرار، سالانہ 35 ہزار کو 50 ہزار کرنے کا فیصلہ

حیدرآباد۔/17 اگسٹ، ( سیاست نیوز) جواہر لال نہرو ٹکنالوجیکل یونیورسٹی حیدرآباد اور اس کے ملحقہ کالجس نے انجینئرنگ کورسیس کی فیس میں اضافہ کردیا ہے۔ بی ٹیک کورسیس کیلئے سالانہ فیس 35 ہزار روپئے سے بڑھا کر 50 ہزار روپئے کردی گئی ہے۔ نئی فیس کے ڈھانچہ کو یونیورسٹی کی ایگزیکیٹو کونسل نے گزشتہ ہفتہ اپنے اجلاس میں منظوری دی اور اس پر یونیورسٹی کے تمام بی ٹیک کورسیس پر عمل کیا جائے گا۔ حیدرآباد کیمپس کے علاوہ جگتیال، منتھنی، سلطان پور، سرسلہ اور ونپرتی کے ملحقہ کالجس میں نئی فیس پر عمل کیا جائے گا۔ یونیورسٹی نے ایم ٹیک ریگولر کورسیس کی فیس کو فی سیمسٹر 15 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپئے کردیا ہے۔ سیلف فینانس ایم ٹیک کورسیس کیلئے سالانہ ایک لاکھ روپئے فیس وصول کی جائے گی۔ تلنگانہ میں داخلوں اور فیس کو باقاعدہ بنانے سے متعلق ریگولیٹری کمیٹی نے خانگی پیشہ ورانہ کالجس کی فیس میں جاریہ تعلیمی سال نظرِ ثانی سے انکار کیا ہے لہذا انجینئرنگ کالجس نئی فیس پر عمل آوری کے بارے میں الجھن کا شکار ہیں۔ یونیورسٹی کی ایگزیکیٹو کونسل نے فیس میں اضافہ کو منظوری دی ہے لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر احکامات جاری نہیں کئے گئے۔ ذرائع کے مطابق اندرون ایک ہفتہ اس بات کا فیصلہ ہوجائے گا کہ آیا نئے فیس اسٹرکچر پر عمل آوری ہوگی یا نہیں۔ جاریہ تعلیمی سال یا پھر آئندہ تعلیمی سال سے عمل آوری پر صورتحال واضح ہوجائے گی۔ ایسے امیدوار جو فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کیلئے منتخب ہوئے ہیں ان پر اضافہ کا کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ حکومت کی جانب سے فیس ادا کی جاتی ہے۔ سرکاری جونیر کالجس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ جنہوں نے ایمسٹ میں 10 ہزار سے کم رینک حاصل کیا ان کی مکمل فیس حکومت کی جانب سے ادا کی جاتی ہے۔ ایس سی، ایس ٹی طبقات کے طلبہ مکمل فیس ری ایمبرسمنٹ کے اہل ہیں جبکہ ان کی سالانہ آمدنی 2 لاکھ سے کم ہونی چاہیئے۔ ایسے طلبہ جنہوں نے 10 ہزار سے زائد کا رینک ایمسٹ میں حاصل کیا انہیں ری ایمبرسمنٹ کے تحت 35 ہزار روپئے ادا کئے جائیں گے جبکہ باقی فیس طلبہ کو اپنے طور پر ادا کرنی ہوگی۔ر