رہنمایانہ خطوط پر نظرثانی نہ کرنے پر غریب کسانوں کونقصان ہوگا : ہریش راؤ
حیدرآباد۔ 15 جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے اندرماں آتمیہ بھروسہ اسکیم میں بغیر کسی کٹوتی کے عمل آوری کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ ورچول انداز میں منعقدہ ضلع میدک کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ریاست میں 50 لاکھ ای جی ایس کارڈس موجود ہیں۔ ایک کروڑ 2 لاکھ افراد ضمانت روزگار اسکیم کے مزدور کی طرح کام کررہے ہیں۔ یہ تمام مزدور ہیں جو کام کررہے ہیں، ان میں ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی کسانوں کی اکثریت ہے۔ ریاست میں 2 کروڑ افراد زرعی مزدور کی حیثیت سے ان کارڈس کے ذریعہ روزگار ضمانت اسکیم میں کام کررہے ہیں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ اس اسکیم کے ذریعہ تمام زرعی مزدوروں کو فائدہ پہونچانا چاہئے۔ اراضی کی حد اور سال میں مکمل کام کرنے کی 20 دن کی جو شرط رکھی گئی ہے، اس سے فوری دستبرداری اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ ناسازی صحت یا دیگر مسائل کی وجہ سے بعض لوگ مکمل 20 دن تک کام پر نہیں جاسکتے، انہیں بھی اس اسکیم سے فائدہ پہونچانے کا مطالبہ کیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ 5 گنٹے اراضی رکھنے والے کسانوں کو ریتو بھروسہ اسکیم کے ذریعہ صرف 1,500 روپئے ہی حاصل ہوں گے اور ساتھ ہی 5 گنٹے اراضی رکھنے والے کسان کو زرعی مزدوری12 ہزار روپئے سے محروم ہوجائیں گے، لہٰذا اِن اسکیموں کیلئے حکومت نے جو رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں، اس پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا۔بی آر ایس کے رکن اسمبلی نے کہا کہ ریاست میں ایک ایکر سے کم اراضی رکھنے والے کسانوں کی تعداد 54 لاکھ 57 ہزار ہے۔ ایسے کسانوں کو ریتو بھروسہ کے علاوہ اندرماں آتمیہ اسکیم سے بھی فائدہ پہونچانے کا مطالبہ کیا۔ 2