اندرون دو ماہ حکومت تلنگانہ کا کروڑہا روپیوں کا قرض حصول

   

Ferty9 Clinic


کورونا وبا سے آمدنی میں کمی ، جاریہ سال مزید 40 ہزار کروڑ روپئے قرض حاصل کرنے کا امکان
حیدرآباد :۔ اندازے کے مطابق سرکاری خزانے کو آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے حکومت بڑے پیمانے پر قرض حاصل کررہی ہے ۔ دو ماہ نومبر دسمبر میں بانڈس ہراج کرتے ہوئے 10,572 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ۔ صرف ماہ دسمبر میں 7 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا جب کہ نومبر میں 3572 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ۔ حکومت نے یکم دسمبر کو 1000 کروڑ 8 دسمبر کو ایک اور 1000 کروڑ ، 15 دسمبر کو 2000 کروڑ ، 22 دسمبر کو مزید 2000 کروڑ اور 29 دسمبر کو 1000 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس سلسلہ میں آر بی آئی نے اعلامیہ جاری کیا ۔ عام طور پر حکومت کی آمدنی گھٹنے پر ملازمین کی تنخواہیں اور فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کے لیے بانڈس کا ہراج کرتے ہوئے قرض حاصل کرنے کا حکومت کو اختیار ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ کارپوریشن قرض حاصل کرنے کی بھی گنجائش ہے ۔ تلنگانہ حکومت نے جاریہ مالیاتی سال 2020-21 میں تاحال 22 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے ۔ تازہ حاصل کردہ قرض کو شمار کرلیں تو جملہ 32,572 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ہے ۔ گذشتہ مالیاتی سال 2019-20 میں حکومت نے اندرون 30 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا تھا ۔ تاہم جاریہ سال دسمبر کے اواخر تک کا قرض 32 ہزار کروڑ کی حد کو پار کرچکا ہے ۔ ایف آر بی ایم کے حدو دمیں اضافہ کرنا اور جی ایس ٹی کو حاصل کرنے کے لیے انتخاب کردہ آپشن I سے حکومت مزید 5017 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کی گنجائش فراہم ہوئی ہے ۔ ریتو بندھو اسکیم پر عمل آوری کے لیے عہدیدار فنڈز اکھٹا کرنے میں مصروف ہے ۔ چیف منسٹر نے اعلامیہ میں کہا ہے کہ اس کے لیے 7300 کروڑ روپئے کے مصارف ہیں ۔ یہ تمام فنڈز دسمبر کے اواخر سے جنوری کے پہلے ہفتہ تک کسانوں کے بنک کھاتوں میں جمع کرنا ہے ۔ اس لیے اس ماہ زیادہ قرض حاصل کیا جارہا ہے ۔عہدیداروں کی جانب سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ جاریہ مالیاتی سال حکومت کی آمدنی ایک لاکھ کروڑ کے آس پاس ہوسکتی ہے ۔ تقریبا 40 ہزار کروڑ تک قرض حاصل کیا جارہا ہے ۔ جس سے 1.35 لاکھ کروڑ روپئے تک دستیاب رہنے کی توقع کی جارہی ہے ۔ گذشتہ مالیاتی سال حکومت کو 1.02 لاکھ کرور روپئے کی آمدنی ہوئی تھی ۔ اس کے علاوہ 29,902 کروڑ روپئے قرض حاصل کیا گیا تھا ۔ جس سے 1.32 لاکھ کروڑ روپئے حکومت کے پاس دستیاب تھے ۔ جاریہ سال بھی حکومت کی جانب سے یہی توقع کی جارہی ہے ۔ حکومت نے جاریہ سال مجموعی بجٹ 1.82 لاکھ کروڑ کا پیش کیا تھا ۔ اس میں 30 ہزار کروڑ روپئے اراضیات فروخت کر کے مزید 30 ہزار کروڑ روپئے قرض کے طور پر حاصل کرنے کی تجاویز پیش کی تھی ۔ ماباقی 1.22 لاکھ کروڑ روپئے مختلف آمدنی سے حاصل ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا ۔ تاہم اس میں آمدنی 20 ہزار کروڑ روپئے گھٹنے کا امکان ہے ۔ جاریہ مالیاتی سال یعنی اپریل سے اکٹوبر ریاست کو 27 ہزار کروڑ قرض کے ساتھ 73,968 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے اور 69.643 کروڑ روپئے کے اخراجات ہوئے ٹیکس آمدنی کا جائزہ لیں تو اپریل اور مئی میں آمدنی بڑی حد تک گھٹ گئی ۔ کاگ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے آمدنی میں اضافہ ہوا ہے ۔ اکٹوبر تک ریاست کی آمدنی ( ٹیکس آمدنی ) ہٹادیں تو 48 ہزار کروڑ روپئے ہے ۔ دسمبر کے اواخر تک 64 ہزار کروڑ روپئے کے آس پاس رہنے کا امکان ہے ۔ آخری کے تین ماہ کی آمدنی 30 ہزار کروڑ روپئے ہو تو جملہ آمدنی ایک لاکھ کروڑ تک پہونچتی ہے ۔ آئندہ سال 2021-22 کی آمدنی بھی لگ بھگ یہی سطح پر ہونے کی امید کی جارہی ہے ۔۔