ڈاکٹر سلیم عابدی اور جہانگیر قیاس کی تصانیف کا رسم اجراء ، رحیم الدین انصاری کا خطاب
حیدرآباد ۔یکم ستمبر ( پریس نوٹ ) اعتماد زندگی ہے یقین انسان کیلئے ضروری ہے جب تک اعتماد قائم رہتاہے ۔ آدمی کا بھرم رہتا ہے جیسے ہی اعتماد ختم رشتے ناطے سب ٹوٹ جاتے ہیں ۔ اس لئے اعتماد کے ساتھ یقین کی بڑی اہمیت ہے اور ان دونوں میں جو رشتہ ہے وہ کبھی نہ ختم ہونے والا ہے ۔ ایک ادیب اور شاعر جب صفحہ قرطاس پر کچھ لکھتا ہے تو وہ اس کے اندر کے جذبات خواہشات کے ساتھ آہوں کی آنچ بھی ہوتی ہے اور جب وہ لکھ دیتا ہے تو سامنے والا یہ کہتاہے کہ میں بھی یہی کہنے والا ہوں ۔ شاعری اور نثر نگاری کو پیش کر کے قاری کو تسکین کا سامان پہنچاتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار بز فروغ اردو کے زیراہتمام ڈاکٹر م ۔ ق سلیم صدر شعبۂ اُردو شاداں کالج نے ڈاکٹر سلیم عابدی کی کتاب ’’ نشاط سلیم ‘‘ اور جہانگیر قیاس کی کتاب ’’ اعتماد سے یقین تک‘‘ کے رسم اجراء کے موقع پر اردو گھر مغلپورہ میں کیا ۔ جلسہ کی صدارت صدرنشین اردو اکیڈیمی تلنگانہ مولانا رحیم الدین انصاری نے کی ۔ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے عبدالرحمن سلیم آرکٹیکٹ ( شکاگو) اور ڈاکٹر ناظم علی نے شرکت کی ۔ مولانا رحیم الدین انصاری نے ڈاکٹر سلیم عابدی کے شعری مجموعہ ’’ نشاط سلیم ‘‘ اور عبدالرحمن سلیم ( شکاگو) نے جہانگیر قیاس کی کتاب ’’ اعتماد سے یقین تک ‘ کی رسم اجراء انجام دی ۔ مولانا نے کہاکہ ان دو کتابوں کے مصنفین میں ایک مشترکہ خصوصیت یہ کہ لازم و ملزوم ہیں ۔ ایک استاد ہے اور دوسرا شاگر ۔ مگر دونوں صنف الگ الگ ہیں ۔ عبدالرحمن سلیم آرکٹیکٹ شکاگو نے کہا کہ مجھے چند دنپہلے یہ کتابیں مل جاتی تو سیر حاصل تبصرہ کرتا ۔ مگر سرسری بھی دیکھ کر جی خوش ہوا کہ آج کے دور میں اصلاح معاشرہ پر کم لکھنے والے ہیں ۔ ڈاکٹر ناظم علی ادب برائے زندگی اور ادب برائے ادب حوالہ دیتے ہوئے ان مصنفین کو مبارکباد دی ۔ محمد آصف علی نے تبصرہ کیا اور مصنف کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ۔ محسن خان نے کہا کہ مجید خان نفسیات پر لکھتے تھے اسی طرح جہانگیر قیاس معاشرہ کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھ رہے ہیں ۔ ڈاکٹر مختار احمد فردین نے بھی خطاب کیا ۔ بعد ازاں ڈاکٹر سلیم عابدی کی صدارت میں غیر طرحی مشاعرہ منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر محسن جلگانوی ، صاحبزادہ مجتبیٰ فہیم ، ڈاکٹر سردار سلیم ، ڈاکٹر م ۔ق سلیم اور جہانگیر قیاس نے مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی ۔ شعرا یوسف روش ، ڈاکٹر خواجہ فرید الدین صادق ، حامد رضوی ، ڈاکٹر رشید رہبر ہاشمی ، ڈاکٹر معین افروز ، ظفر فاروقی ، انجم شافعی ، ڈاکٹر ناقد رزاقی ، بشیر خالد ، طاہر رومانی ، تشکیل انور رزاقی ، فرید سحر ، شیخ سلیم ، نور الدین امیر ، لطیف الدین لطیف ، شبیر خان اسمارٹ ، میر عظمت علی عظمت ،جھانپڑ شمس آبادی اور عبدالقیوم علیم نے کلام سنایا ، نظامت کے فرائض سہیل عظیم نے انجام دیئے ۔
