کارگذار صدر بی آر ایس کے ٹی آر سے بی آر ایس قائدین کے وفد کی ملاقات
حیدرآباد۔29۔ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں انسداد مذہبی نفرت قوانین کے نفاذ کے سلسلہ میں بی آرایس ایوان میں تجویز پیش کرے تاکہ تلنگانہ میں مذہبی نفرت پھیلانے والے بیانات پر قابو پانے کے اقدامات کویقینی بنایا جاسکے۔ بھارت راشٹرسمیتی کے قائدین جناب علی مسقطی ‘ جناب یونس اکبانی اور جناب نوید اقبال نے رکن اسمبلی بوتھ انیل جادھو کے ہمراہ کارگذار صدر بی آر ایس مسٹر کے ٹی راما راؤ سے ملاقات کرتے ہوئے ایک تفصیلی یادداشت حوالہ کی اور ان سے خواہش کی گئی کہ پڑوسی ریاست کرناٹک میں جس طرح حکومت نے مذہب‘ ذات پات کی بنیاد پر جاری کئے جانے والے بیانات اور نفرت انگیز تقاریر کے علاوہ جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کاروائی کے سلسلہ میں قانون کی منظوری کویقینی بنائے ۔ کے ٹی راما راؤ سے ملاقات کرنے والے وفد میں شامل قائدین نے بی آر ایس دور حکومت میں گوشہ محل رکن اسمبلی کے خلاف کی گئی کاروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس نے اپنے دور حکومت میں فرقہ وارانہ تعصب پھیلانے اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والے بیانات پر ان کے خلاف جس طرح سے کاروائی کی تھی اس کے بعد وہ دوبارہ اسی طرح کے بیانات دیتے ہوئے دلآزاری کے ساتھ ساتھ اقلیتو ںکو نشانہ بنانے کی سازشوں میں ملوث ہو رہے ہیں اسی لئے سخت قوانین کے تحت ایسے افراد کے خلاف کاروائی ناگزیر ہے ۔ وفد نے کے ٹی آر سے خواہش کی کہ تلنگانہ میں اہم اپوزیشن کی حیثیت سے بی آر ایس اس طرح کے معاملات سے نمٹنے کے لئے سخت قانون کی تدوین کے لئے تجویز پیش کرے اور حکومت کو قانون سازی کے لئے مجبور کیا جائے تاکہ تلنگانہ میں نہ صرف اقلیتیں بلکہ تمام مذاہب و طبقات سے تعلق رکھنے والے عوام امن و امان کے ساتھ زندگی گذارسکیں۔ وفد نے بتایا کہ رکن اسمبلی گوشہ محل جن کا تعلق تلنگانہ قانون ساز اسمبلی سے ہے اور وہ رکنیت رکھتے ہیں اس کے باوجود وہ ملک کے دیگر شہروں میں ہندستان سے مسلمانوں کے خاتمہ کی منصوبہ بندی کی بات کرتے ہوئے تلنگانہ کی تہذیب اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نشانہ بنارہے ہیں۔ جناب علی مسقطی نے کے ٹی راما راؤ سے خواہش کی کہ وہ اس سلسلہ میں حکومت کو متوجہ کرواتے ہوئے کرناٹک کی طرز پر قانون سازی کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کروائیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ مسٹر کے ٹی راما راؤ نے ملاقات کرنے والے وفد کو اس بات کا تیقن دیا کہ وہ اس سلسلہ میں پارٹی فورم میں تبادلہ خیال کے بعد ایوان میں مسئلہ کو اٹھانے کے سلسلہ میں فیصلہ کریں گے۔ انہو ںنے بتایا کہ بی آر ایس ہمیشہ سے ہی تمام مذاہب کے احترام اور تلنگانہ کی گنگاجمنی تہذیب و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لئے سرگرم رہی ہے اور آئندہ بھی ریاست کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔3