انصاف رسانی میںتاخیر انصاف سے محرومی

   

احمد آباد کی عدالت نے امیر الدین ملک کو 32 سال بعد بری کیا
حیدرآباد یکم فروری(سیاست نیوز) انصاف میں تاخیر انصاف سے محروم کرنے کی باتیں دراصل کتابی جملے ہیں کیونکہ ملک کی کئی عدالتوں میں ایسے کئی مقدمات موجود ہیں جن میںکئی برس کی جدوجہد کے بعد بھی تاخیر ہوتی ہے اسی طرح کے ایک مقدمہ میں احمدآباد کی عدالت نے امیر الدین ملک کو 32 سال بعد الزامات سے بری کیا ۔ 6 ڈسمبر 1992کو بابری مسجد کی شہادت کے دوسرے دن ملک بھر میں فسادات کے دوران میں بھی فسادات ہوئے تھے جس میں پولیس نے امیر الدین ملک کو ٹاڈا کے مختلف دفعات کے تحت 7 ڈسمبر 1992 کو گرفتار کیا تھا لیکن بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ بابری مسجد کی شہادت کے دوسرے دن جو مقدمہ درج کیا گیا تھا اس کا فیصلہ رام مندر کی پران پرتشٹھا کے دوسرے دن یعنی 24 جنوری کو سنایا گیا۔ امیر الدین ملک کو احمد آباد پولیس نے 7 ڈسمبر 1992 کو ٹاڈا کے تحت مختلف مقدمات میں ماخوذ کرکے ان کے ساتھ 2 افراد کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا تھا ان پر الزامات میں ہجومی تشدد اور سرکری املاک کو نقصان پہنچانے و فرقہ وارانہ تشدد پھیلانا شامل تھا ۔ امیر الدین ملک کے ساتھ گرفتار دو افراد کے مقدمہ کا فیصلہ ہوگیا لیکن امیرالدین ملک جو اب 60 سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ان کا فیصلہ گذشتہ ماہ 24 جنوری کو کیا گیا۔ مقدمہ درج کرنے والے انسپکٹر ایم ڈی چودھری ملزمین کے خلاف کوئی ثبوت پیش کرنے سے قاصر رہے اور عدالت نے استغاثہ کی جانب سے پیش کئے گئے دستاویزات میں محض عینی شواہد کی بنیاد پر سزاء دینے سے انکار کرتے ہوئے جج ایچ ایچ ٹھاکر نے ملک کو بری کرنے کا فیصلہ دیا۔3