انعامی رقم ضرورت مندوں میں تقسیم کرنے محمد دیپک کا اعلان

   

رائے پور ۔8فروری ( ایجنسیز )اُتراکھنڈ کے پوڑی ضلع کے کوٹ دوار میں ایک مسلمان کی دکان کا نام تبدیل کرنے کے تنازعہ کے درمیان بزرگ دکاندار کو بچانے والے دیپک پورے ملک میں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مختلف شخصیات اور تنظیموں کی جانب سے ان کے جرات مندانہ اقدام کی بھر پورتعریف کی جارہی ہے۔ بہت سے لوگ ان کی عزت افزائی کرنے اور انعام دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اسی تناظر میں جھارکھنڈ حکومت نے بھی دیپک کمار کو دو لاکھ روپے کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دیپک نے کہا کہ وہ بطور امداد حاصل کرنے والی رقم کا استعمال انکیتا بھنڈاری کے خاندان اور دیگر غریب اور بے سہارا لوگوں کی مدد کیلئے کریں گے۔ دیپک نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی حمایت اور حوصلہ افزائی کی اور ان کے ساتھ کھڑے رہے۔جم ٹرینر دیپک کمار عرف محمد دیپک جنہوں نے پوڑی ضلع کے کوٹ دوار میں دکان کے نام پر تنازعہ کے بیچ عوام کی توجہ حاصل کی۔ انہوں نے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ آنجہانی انکیتا بھنڈاری کے کنبہ اور دیگر غریب اور ضرورت مند لوگوں کی مدد کے لیے انعام یا امداد کے طور پر جو بھی رقم حاصل کریں گے وہ خرچ کریں گے۔ دیپک کمار نے جھارکھنڈ حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ جھارکھنڈ حکومت کے ایک وزیر نے انہیں 2 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں کچھ ہندو تنظیموں کے کارکنان ایک بزرگ مسلم پر ان کی دکان کا نام بدلنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ بزرگ کی دکان کا نام بابا ہے۔ ہندو تنظیموں کے ہنگامے میںجم ٹرینر دیپک کمار بزرگ کی حمایت میں آگے آئے تھے۔
انہوں نے خود کو محمد دیپک کہتے دکان کا نام بدلنے کی کھل کر مخالفت کی تھی۔