سرینگر۔4 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر میں دوماہ سے انٹرنیٹ خدمات کی معطلی نے نئے سرمایہ کاروں کو سخت نقصان پہنچایا ہے جو تجارتی سرگرمیوں کیلئے سوشیل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ نوجوان مرد و خواتین نے فیس بک و انسٹا گرام پر تجارت شروع کی تھی اور ذریعہ معاش کیلئے ان کا دارومدار انٹرنیٹ پر تھا۔ ان کی تجارت 4 اگست کی شام کو بند کردی جب انٹرنیٹ خدمات مسدود کردی گئیں جس سے نئی نسل عملاً بے روزگار ہوکر رہ گئی۔ سری نگر کی ساکن عمیرہ نے کہا کہ انٹرنیٹ کی مسدودی کے سبب ان کا کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے۔ کاروبار فیس بک اور انسٹا گرام کے ذریعہ چلاکرتا تھا۔ ہم تیار کردہ اشیاء کی نمائش کردیتے تھے۔ ہمیں ہر جگہ اپنی شخصی موجودگی کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ انسٹاگرام پر ہمارے 49 ہزار خریدار تھے اور ہم اپنے صارفین سے آن لائین آرڈر وصول کرتے اور مطلوبہ اشیاء سربراہ کرتے تھے۔ انٹرنیٹ مسدودی سے گاہک ہم سے رابطہ قائم کرنے کے قابل نہ رہے جس کے نتیجے میں ہمارا خسارہ ہوگیا۔ انہو ںنے بتایا کہ کئی گاہکوں کے آرڈر تیار ہیں لیکن ہم نیٹ ورک نہ ہونے سے انہیں روانہ کرنے سے قاصر ہیں۔ حکومت کو انٹرنیٹ بحال کرنا چاہئے۔ ایک اور خاتون تاجر ثنا نے کہا کہ وہ خواتین کے سوٹ اور نقش و نگار کی اشیاء فروخت کرتی تھیں انٹرنیٹ پر پابندی کی وجہ سے ان کے گاہک اور یہ خود بھی کسی قسم کا آرڈر دینے یا وصول کرنے سے معذور ہیں۔