انڈیا اتحاد میں نشستوں کی تقسیم پر اتفاق سے بی جے پی کی پریشانی میںاضافہ

,

   

٭ برسر اقتدار پارٹی کے پاس فرقہ وارانہ کشیدگی بھڑکانے کے سوا کوئی راستہ نہیں
٭ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو نشانہ بنانے کی سرگرمیوں میں بھی شدت
٭ این ڈی اے سے اتحاد رکھنے والے بے شمار بد عنوان قائدین کے کالے کرتوتوں سے چشم پوشی
٭ مجلس کو کئی ریاستوں میں مقابلہ کروانے کیلئے قریبی تاجروں کے خلاف ای ڈی دھاوے

حیدرآباد 23 فروری(سیاست نیوز) ملک میں انڈیا اتحاد کیلئے اچھی خبروں کا سلسلہ شروع ہوتے ہی برسراقتدار بی جے پی نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنی شروع کردی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ ملک میں صرف فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کے علاوہ بی جے پی کے پاس کوئی راستہ نہیں رہ گیا ہے۔ عام انتخابات کیلئے اعلامیہ کی اجرائی میں محض کچھ وقت رہ گیا ہے ایسے میں پارٹی تیزی سے اپوزیشن قائدین کو نشانہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہوچکی ہے تاکہ انہیں ’انڈیا اتحاد‘ میں شمولیت سے روکا جائے یا انہیں بی جے پی کی مرضی کے مطابق مقابلہ کیلئے آمادہ کیا جاسکے۔ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی اپنے 370 کے پار کے نعروں کی حقیقت سے واقف ہے اسی لئے آئندہ چند یوم میںانفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ‘ سی بی آئی و انکم ٹیکس کاروائیوں میں شدت پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اگر ان کاروائیوں سے کوئی فرق نہ پڑے اور اعلامیہ کی اجرائی عمل میں آجائے تو فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ کی سازش کی جا رہی ہے ۔ دہلی کی وزیر تعلیم آتشی مارلینا نے کل پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا اتحاد میں عام آدمی پارٹی کی شمولیت اور نشستوں کی تقسیم کو قطعیت کے بعد مرکزی حکومت کی جانب سے چیف منسٹر دہلی و سربراہ عام آدمی پارٹی اروند کجریوال کو گرفتار کرنے کی تیاری کی جاچکی ہے۔ ان کے اس دعوے کے علاوہ اگر اپوزیشن قائدین کو ہراسانی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوگی کہ کس طرح سے بی جے پی نے انہیں خوفزدہ کرکے پارٹی میں شامل کیا ہے۔ سابق چیف منسٹر جھارکھنڈ ہیمنت سورین کی گرفتاری ‘ این سی پی قائد اجیت پوار کی این ڈی اے میں شمولیت کے علاوہ منیش سسوڈیا ‘ سنجے سنگھ کی گرفتاری اور ملک کی کئی ریاستوں میں جن قائدین پر بدعنوانیوں کے الزامات ہیں ان کے این ڈی اے کا حصہ بننے پر خاموشی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بی جے پی 2024 عام انتخابات میں کامیابی کیلئے کس طرح کے ہتھکنڈے اختیار کر رہی ہے۔بی جے پی انتخابی اعلامیہ کی اجرائی سے قبل اپوزیشن جماعتوں بلکہ 10 برسوں میںہر متنازعہ فیصلہ کی تائید کرنے والی بی آر ایس اور بی جے پی کی مدد کے الزامات اور بی ٹیم قرار دی جانے والی مجلس کے خلاف بھی ایجنسیاں سرگرم ہوچکی ہیں ۔ بی جے پی قائدین اور خود آرایس ایس کو عام انتخابات کے نتائج کا اطمینان نہیںہیںانہی خدشات کے تحت ای ڈی و انکم ٹیکس کاروائیوں کے ساتھ اب سی بی آئی کی کاروائیوں کو بھی تیز کردیا گیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کا حصہ بننے والے اپوزیشن قائدین جو کہ مرکزی ایجنسیوں کی کاروائیوں کاشکار ہونے سے بچنے حکمت عملی کے تحت نشستوں کی تقسیم کو قطعیت دینے میں تاخیر کر رہے تھے وہ کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں تو ایسے میں بی جے پی نے ان جماعتوں کو بھی نشانہ بنانے کا آغاز کردیا ہے جنہیں مجبور کرکے ملک میں مسلم اور سیکولر ووٹوں کی تقسیم کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔شہر میں مجلسی قیادت سے قریبی تعلق والے تجارتی گھرانہ پر ای ڈی کے دھاوے اور کارروائی کے پریس نوٹ کی اجرائی کے ذریعہ مجلسی قیادت کو استعمال کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہاہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ای ڈی کی اس کاروائی کے ذریعہ مجلس کو تلنگانہ ‘ بہار ‘ مہاراشٹرا و اترپردیش ‘ جھارکھنڈ‘ گجرات اور راجستھان میں مقابلہ کروانے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ انڈیا اتحاد میں نشستوں کی تقسیم نے بی جے پی کے حلقوں میں ہلچل پیدا کردی اور بی جے پی میں حکمت عملی تیار کرنے والوں کا کہناہے کہ اب پارٹی کو عام انتخابات میں کامیابی کیلئے محض اکثریتی ووٹ کو متحد کرنے نفرت انگیز ماحول کی تیاری اور سیکولر ووٹ کی تقسیم ہی ایک راستہ رہ گیا ہے اور ا س کیلئے پارٹی کئی ریاستوں میں مجلس کے امیدواروں کو میدان میں اتارنے جماعت پردباؤ ڈالنے کی حکمت تیار کرچکی ہے اسی لئے ای ڈی کی جانب سے شہر کے کنگس گروپ کمپنیز پر دھاوے کے ذریعہ دباؤ میں اضافہ کیا جا رہاہے ۔شہر کے ووٹرس میں بھی اب یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ سابق میں بھی انکم ٹیکس اور ای ڈی کی کاروائیاں کی گئی تھیں لیکن کوئی صحافتی اعلامیہ جاتی نہیں کیاگیا تھا اور بیشتر کاروائیاں ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات سے عین قبل کی گئی تھیں اور اب عام انتخابات سے قبل کاروائی کے بعد پریس نوٹ کی اجرائی کے ذریعہ گروپ سے قریب سیاسی قائدین کو ہراساں کیا جا رہاہے۔3