’’انڈیا کو مذہبی آزادی کے بدترین خاطیوں میں شامل رکھا جائے‘‘

   

Ferty9 Clinic

استحصال اور امتیازی سلوک کو بے نقاب کرناضروری، 14 امریکی سینیٹرس کا حکومت کو مکتوب

واشنگٹن: ہندوستانی امریکیوں کا کہنا ہیکہ امریکی حکومت کو حکومت ہند کی ایجنسیوں اور ان اداروں کے خلاف بھی کارروائی کرنا چاہئے جو مذہبی استحصال میں ملوث ہیں۔ انڈین امریکین اور امریکہ میں قائم شہری حقوق کی تنظیموں اور جہدکاروں کے وسیع تر مخلوط ’’ہندوستان میں نسل کشی کو روکنے والا مخلوط‘‘ (سی ایس جی آئی) نے 14 امریکی سینیٹرس کی جانب سے وزیرخارجہ مائیک پومپیو کو تحریر کردہ مکتوب کا خیرمقدم کیا ہے جس میں زور دیا گیا کہ امریکی قانون حکومت کو وفاقی کمیشن کی ایسی سفارشات پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے جن میں بعض ملکوں کو تشویش والے ممالک نامزد کیا جاتا ہے۔ امریکی حکومت کی سرکاری اصطلاح ہیکہ کسی معاملہ میں خاطی ملک کے لئے وہ مخصوص فکرمندی والے ممالک (سی پی سی) کا استعمال کرتا ہے۔ ایسے ممالک دنیا میں مذہبی آزادی کے معاملہ میں بدترین خاطی ہوتے ہیں۔ 10 ریپلکن اور 4 ڈیموکریٹک سینیٹرس کے دستخط کردہ مکتوب میں امریکی حکومت کو توجہ دلائی گئی کہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی سفارشات پر غوروخوض کیا جائے۔ یہ وفاقی کمیشن ہے اور اس پر انحصار کے ساتھ ساتھ دیگر ذرائع کی تحقیقات اور جانکاری کا بھی جائزہ لیا جائے۔ گذشتہ سال امریکہ میں 9 ممالک بشمول چین، شمالی کوریا، برما، پاکستان اور سعودی عرب کو وفاقی کمیشن کی سفارشات کی اساس پر سی پی سی کے طور پر نامزد کیا تھا۔ رواں سال اپریل میں وفاقی کمیشن نے اس فہرست میں مزید 9 ملکوں کے اضافہ کی سفارش کی جن میں ہندوستان شامل ہیں۔ سی ایس جی آئی بار بار توجہ دلاتا رہا ہیکہ خاص فکرمندی اور تشویش والے ملکوں کی فہرست میں ہندوستان کو شامل کیا جائے۔ ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف جس سطح پر ظلم و زیادتی ہورہی ہے، اسے دیکھتے ہوئے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے اپیل کی گئی ہیکہ وفاقی کمیشن کی سفارشات کو قبول کیا جائے۔ مکتوب میں لکھا گیا کہ ہمارا ملک ایسے اصول پر قائم ہیکہ تمام لوگوں کو اپنی پسند کے عقیدہ و مذہب پر عمل کرنے کی آزادی کا حق حاصل ہے جس میں انہیں متعلقہ حکومت یا کوئی دیگر عوامل کی طرف سے اذیت دیئے جانے کا کوئی خوف نہ ہو۔ آزاد دنیا کے لیڈر کی حیثیت سے یہ ضروری ہیکہ امریکہ نمونہ بنے اور اس کلیدی انسانی حق کو فروغ دیں اور ہمارے اقدار سے بقیہ دنیا کو واقف کرائے کہ یہ ہماری خارجہ پالیسی کے مقاصد کا بنیادی حصہ ہے۔ سینیٹرس نے مکتوب میں لکھا کہ اس مقصد کی تکمیل کیلئے سب سے پہلے ہمیں ظلم و زیادتی کو بے نقاب کرنا چاہئے اور متاثرین و مظلومین کے تجربات کو دنیا بھر میں پھیلنا چاہئے۔ ہمیں اطمینان ہوا کہ کانگریس کی طرف سے دباؤ ڈالا گیا کہ انڈیا کو خاص تشویش والا ملک نامزد کیا جائے۔ ماتیاس پرتولا، ایڈوکیسی ڈائرکٹر، انٹرنیشنل کرسچن کنسرن نے کہا کہ مودی حکومت کیلئے ضروری ہیکہ اپنے کٹرپسند ایجنڈہ سے دوری اختیار کرلے اور انڈیا میں تمام مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور آزادی کی دستورہند کے مطابق ضمانت دے۔ قومی صدر آئی اے ایم سی احسن خان نے کہا کہ سینیٹرس کے مکتوب برائے سکریٹری پومپیو سے ظاہر ہوتا ہیکہ ہندوستان کو اپنی بڑی اقلیتوں یعنی مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف بڑھتے تشدد کیلئے جوابدہ بنانے کے سلسلہ میں کانگریس سے مضبوط دوطرفہ حمایت حاصل ہوئی ہے۔ امریکی حکومت کو چاہئے کہ ہندوستان کو سی پی سی نامزد کرے۔