انگریزوں کے ایجنٹ بی جے پی حکومت میں قومی ہیرو بن گئے

   

ہنمنت راؤ کا الزام ، ٹیپو سلطان کے خلاف بی جے قائدین کے بیانات کی مذمت

حیدرآباد۔17۔ فروری (سیاست نیوز) سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے کہا کہ شیر میسور ٹیپو سلطان نے انگریزوں کے خلاف جنگ کی تھی لیکن بی جے پی اور دیگر فرقہ پرست طاقتیں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ ملک میں فرقہ وارانہ نوعیت کی صورتحال پیدا کرنے کیلئے وقفہ وقفہ سے مہم چلائی جارہی ہے۔ کرناٹک میں بی جے پی کے صدر اور وزیر تعلیم نے ٹیپو سلطان کے خلاف علحدہ بیانات جاری کرتے ہوئے ساورکر اور گوڈسے کو دیش بھکت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کرناٹک کے وزیر تعلیم اپنے علاقہ کی تاریخ سے واقف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیپو سلطان کے کارناموں سے نئی نسل کو واقف کرانے کے بجائے ان کے خلاف نفرت کے جذبات کو ہوا دی جارہی ہے ۔ ہنمنت راو نے کہا کہ انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے ٹیپو سلطان نے ملک پر اپنی جان نچھاور کردی ۔ انہوں نے کہا کہ ساورکر انگریزوں کی ایجنٹ تھا لیکن ہندوتوا طاقتیں اسے قومی ہیرو کے طور پر پیش کر رہی ہے ۔ ساورکر نے جیل سے رہائی کیلئے انگریزوں سے تحریری طور پر معافی مانگی تھی اور گاندھی جی کے قتل کے لئے گوڈسے کو اکسانے والا یہی شخص ہے۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ مودی دور حکومت میں انگریزوں کے ایجنٹ اور گاندھی جی کے قاتل کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔ کرناٹک میں الیکشن میں کامیابی بی جے پی کا بنیادی مقصد ہے۔ ملک کی تاریخ تبدیل کرنے کی کوششوں کو ہرگز کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیپو سلطان کے حامیوں کو ہلاک کرنے یا پھر انہیں ملک سے باہر کرنے سے متعلق بیانات پر فوری کارروائی ہونی چاہئے۔ ہنمنت راؤ نے کرناٹک کے وزیر تعلیم کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ر