حیڈرا حکام کو تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہدایت
حیدرآباد۔/15 جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ کے جسٹس کے لکشمن نے رنگاریڈی ضلع کے الماس گوڑہ علاقہ میں دو عمارتوں کے مجوزہ انہدام پر حکم التواء جاری کرتے ہوئے حیڈرا کمشنر اور سکریٹری بلدی نظم و نسق کو ہدایت دی کہ جائیدادوں کے مالکین کو موقف کی وضاحت کا موقع فراہم کریں اور مالکین سے دستاویزات اور ان کا جواب حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی کارروائی کی جائے۔ عدالت نے جائیدادوں کے مالکین کو اعتراضات پیش کرنے کیلئے چار ہفتوں کا وقت دینے کی ہدایت دی ہے۔ الماس گوڑہ کے 75 سالہ انجی ریڈی نے حیڈرا کے سرکل انسپکٹر کی جانب سے 10 جنوری کو جاری کردہ نوٹس کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ حیڈرا نے الزام عائد کیا ہے کہ میرپیٹ تالاب کی اراضی پر ناجائز قبضہ کرتے ہوئے دو شیڈ تعمیر کئے گئے۔ درخواست گذار نے بتایا کہ اگسٹ 2012 میں گرام پنچایت سے اجازت حاصل کرنے کے بعد تعمیری کام انجام دیا گیا۔ حیڈرا نے اپنی نوٹس میں اندرون تین یوم تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی اور یہ تین دن سرکاری تعطیلات کے تھے جس کے نتیجہ میں تفصیلات پیش نہیں کی جاسکی۔ درخواست گذار نے بتایا کہ مذکورہ ایام میں حیڈرا کا دفتر بند ہے۔ جسٹس کے لکشمن نے حیڈرا اور بلدی نظم و نسق کے عہدیداروں سے سوال کیا کہ آیا ایف ٹی ایل علاقہ کا تعین کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ جج نے کہا کہ اگر درخواست گذار دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہیں تو کارروائی کی جاسکتی ہے۔ عدالت نے کارروائی سے قبل جائیداد مالکین کو مناسب وقت دینے کی ہدایت دی۔1