برسلز۔ بڑے بڑے یورپی سیاست دانوں کی طرف سے مبینہ طور پر لیبر قوانین میں نرمی کے بارے میں ایک رپورٹ شائع ہونے کے بعد یورپی حکام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ یورپی یونین کے چند چوٹی کے سیاست دانوں اور فرانسیسی صدر ماکروں پر مبینہ طور پر کار شیئرنگ لابی کے ساتھ یورپی یونین کے لیبر اور ٹیکسی قوانین میں نرمی لانے کے سلسلے میں ساز باز کا موضوع ان دنوں زیر بحث ہے۔ یورپی یونین اپنے ایک سابق چوٹی کے عہدیدار کے اس ساز باز کا مبینہ حصہ ہونے کے بارے میں معلومات جمع کر رہی ہے جبکہ ایمانوئل ماکروں بھی اس بارے میں چند انکشافات کے بعد فرانسیسی اپوزیشن کے سیاسی حملوں کی زد میں ہیں۔ یورپی کمیشن نے یورپی یونین کی ڈیجیٹل امور کی سابقہ چیف نیلی کروئس سے پیر کے روز ’اوبر لابی‘ کے ساتھ اپنی مبینہ شمولیت کے بارے میں مزید معلومات جمع کرانے کو کہا۔ اس سے ایک روز قبل شائع ہونے والی ایک دستاویز سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کروئس نے کار شیئرنگ لابی اور یورپی سیاستدانوں کے بیچ لیبر قوانین میں نرمی کے حوالے سے ہونے والی بات چیت میں مدد کی تھی۔ انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس کے ڈیٹا پر مبنی تحقیقات میں الزام لگایا گیا ہے کہ اوبر نے اپنے کمپنی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے پالیسی سازوں اور سیاست دانوں کی طرف سے تعاون کے لیے سخت قسم کی لابی کی تھی۔