اورینٹل بینک کی چوکسی، نیرو مودی کے قرضوں کی تفصیلات جاری

   

تفصیلات کے انکشاف میں تاخیر پر بینکی حلقوں کا او بی سی سے استفسار
ممبئی۔6 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) پہلی بار عوامی شعبہ کے اورینٹل بینک آف کامرس (او بی سی) نے نیرو بھائی مودی اور میہول چوکسی دو مفرور قرضداروں کے معاملے پر سے جمعہ کے روز پردہ اٹھایا ہے۔ نیشنل پنجاب بینک ( پی این بی) کے ساتھ اورینٹل بینک آف کامرس کے انضمام سے قبل یہ پیش رفت ہوئی ہے۔ فروری 2018ء میں پی این بی نے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ نیرو مودی اور اس کے چچا چوکسی نے بہت بڑے مالیاتی دھوکے کا ارتکاب کیا ہے جو 13,500 کرور روپیوں سے زائد ہے۔ اس انکشاف نے ساری بینکی صنعت کو چکرادیا تھا۔ تاہم او بی سی نے حال ہی میں ان دونوں کو ’’عمداً قرض نہ لوٹانے والے‘‘ قرار دے کر مختلف اوقات میں لیے گئے جملہ 289 کروڑ روپیوں کے ان کے قرضوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ یہ قرض او بی سی کی وسیع کارپوریٹ برانچ کو فی پریڈ، ممبئی سے حاصل کئے گئے تھے۔ نیرو مودی کی کمپنیوں، فائر اسٹار انٹرنیشنل اور فائر اسٹار ڈائمنڈ انٹرنیشنل نے جو قرض لیا تھا وہ بالترتیب 60.41 کرور اور 32.25 کروڑ روپئے تھا جسے ادا کرنے میں مذکورہ کمپنیاں اب تک کامیاب نہ ہوسکیں۔ اس طرح چوکسی کی گیتا نجلی جیمس اور نکشترا ورڈل لمیٹیڈ بھی او بی سی کا بالترتیب 136.45 کروڑ اور 59.53 کروڑ روپیوں کا قرض ادا نہ کرسکیں۔ فروری 2018ء میں ان کے خاموشی کے ساتھ ملک سے فرار کے بعد او بی سی نے فوراً 21 مارچ 2018ء کو ان کے قرضوں کو غیر کارکرد اثاثہ جات (NPAS) قرار دے دیا۔ اس کے علاوہ او بی سی بینک نے دیگر اداروں کو بھی چوکس کردیا کہ وہ ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی معاملت نہ کریں اور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ نیرو مودی اور چوکسی کے اثاثہ جات یا ان کی کسی بھی معاملات کی اطلاع فراہم کریں تاکہ ان سے عدم ادا شدہ قرض وصول کیا جاسکے۔ او بی سی کی حالیہ تفصیلات کے انکشاف کے بعد بینکی حلقہ اس بینک سے سوال کررہے ہیں کہ یہ تفصیلات جاری کرنے میں بینک کو تقریباً 18 ماہ کا عرضہ کیوں لگا؟