اوقافی اراضیات کے تحفظ میں وقف بورڈ مکمل ناکام ‘ سی آئی ڈی کی ابتدائی رپورٹ

   


عہدیداروں و ذمہ داروں کو اختیارات اور برتری سے دلچسپی ۔ جائیدادوں کے تحفظ پر کوئی توجہ نہیں
کئی اراضیات پر مکانات ‘ وینچرس ‘ تجارتی و رہائشی عمارتیں تعمیر ۔ سیاسی کارکنوں اور متولیوں نے تباہی مچائی

حیدرآباد ۔ 24 اکٹوبر ( سیاست نیوز) وقف بورڈ میں اختیارات کیلئے رسہ کشی سے پیدا بے چینی کے ماحول میں ایک چونکا دینے والی حقیقت آشکار ہوئی ۔ وقف اراضیات کے متعلق سی آئی ڈی کی جاری تحقیقات میں ابتدائی رپورٹ منظر عام پر آئی جس میں چونکا دینے والی حقیقت کا انکشاف ہوا ہے ۔ وقف اراضیات کے تحفظ کیلئے بورڈ کے ذمہ داروں کی دلچسپی بھی اس سے ظاہر ہوتی ہے ۔ اس رپورٹ کے مطابق وقف بورڈ اراضیات کے تحفظ میں عملاً ناکام ہوگیا ہے حالانکہ گذشتہ چند روز سے وقف بورڈ سرخیوں میں چھایا ہوا ہے ۔ وقف بورڈ میں اختیارات کیلئے عملاً جنگ جیسا ماحول ہے ۔ ایک دوسرے پر برتری اور اختیارات کیلئے جس طرح سے دلچسپی اور جستجو کی جارہی ہے اگر یہی دلچسپی اراضیات کے تحفظ کیلئے ہوتی تو شائد حالات کچھ اور ہوتے اور کروڑہا روپئے کی املاک کو بچایا جاسکتا تھا ۔ سی آئی ڈی کی جانب سے امکان ہے کہ سال آخر تک مکمل رپورٹ حکومت کو پیش کی جائیگی ۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ پر بحث کے دوران چیف منسٹر نے ایوان اسمبلی میں اعلیٰ سطح تحقیقات کا حکم دیا تھا اور سی آئی ڈی سے تحقیقات جاری ہیں ۔ اعلیٰ عہدیداروں کی نگرانی میں کئی ٹیمیں تحقیقات کو انجام دے رہی ہیں ۔ اس دوران پرائمری رپورٹ منظر عام پر آئی جو چونکا دینے والی ہے ۔ رپورٹ میں تلنگانہ کے تقریباً تمام اضلاع کا احاطہ کیا گیا اور دیہی سطح سے لیکر شہری سطح تک اوقافی اراضیات کی تحقیقات کی جارہی ہے ۔ اوقافی اراضیات کی نشاندہی ناجائز قبضہ وقف بورڈ کی تحویل میں موجود اراضیات کے علاوہ ان کے تحفظ کیلئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے ۔ سی آئی ڈی نے وقف بورڈ سے مکمل ریکارڈ حاصل کرنے کے بعد تحقیقات کا آغاز کردیا اور ایک نشانہ مقرر کرکے سال آخر تک مکمل رپورٹ کو پیش کرنے کا اشارہ دیا ہے ۔ سی آئی ڈی اپنی مکمل رپورٹ چیف منسٹر کے حوالے کرے گی ۔ ذرائع کے مطابق تقریباً ایک ماہ سے ریاست بھر میں سروے جاری ہے اور اراضیات کی مکمل و موجودہ صورتحال پر سی آئی ڈی رپورٹ تیار کررہی ہے ۔ سی آئی ڈی کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضوں اور اراضیات کے بیجا استعمال میں گرام پنچایتوں کا بڑا رول رہا ۔ گرام پنچایت کے سرپنچوں کی جانب سے اوقافی اراضیات پر مکان نمبرات جاری کرکے ریکارڈ میں درج کرایا گیا تاکہ اوقافی دعویداری کو ختم کیا جاسکے اور اس بنیاد پر اوقافی اراضیات پرمکانات کی تعمیر عمل میں لائی گئی ۔ کئی اراضیات پر ونچرس ، کالونیاں ، شاپنگ کامپلکس اور رہائشی کامپلکس تعمیر کردیئے گئے اور آہستہ آہستہ اوقافی جائیدادوں کو تباہ کردیا گیا ۔ سی آئی ڈی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ اوقافی جائیدادوں کی تباہی میں جس قدر سیاسی قائدین اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد کا رول رہاہے ، اس طرح چند واقعات میں متولیوں نے بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھا ۔ متولی مالک بنتے ہوئے اوقافی جائیدادوں کو فروخت کرچکے ہیں ۔ متولی مالک نہیں ہوتا لیکن جائیداد ملکیت کا حق جتاتے ہوئے اوقافی جائیدادوں کو فروخت کردیا گیا ۔ریاست بھر میں اوقافی جائیدادوں کی تحقیقات کیلئے وقف بورڈ کی جانب سے سی آئی ڈی کو دی گئی اراضیات کی تفصیل جدول میں پیش کی گئی ہے ۔ع