اوقافی جائیدادوں کی تباہی ، تحقیقات کیلئے مجلس کا مطالبہ

   

50 فیصد جائیدادوں پر حکومت قابض، مسلمانوں کی ترقی کیلئے جائیدادیں حوالے کی جائیں
حیدرآباد۔یکم ۔اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں مجلس کے فلور لیڈر اکبر اویسی نے اوقافی جائیدادوں کی تباہی پر سی بی آئی ، ہائی کورٹ کے برسر خدمت جج یا سی بی سی آئی ڈی کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اسمبلی میں زیرو اوور کے دوران اکبر اویسی نے اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے مضافاتی علاقوں میں کئی قیمتی اوقافی جائیدادوں کو حکومت نے سرکاری قرار دیتے ہوئے مختلف خانگی اداروں کے حوالے کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں میں حکومت سرفہرست ہے۔ 50 فیصد اوقافی جائیدادوں پر حکومت قابض ہے۔ انہوں نے درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ اور درگاہ حضرت بابا شرف الدینؒ کے تحت موجود ہزاروں ایکر اراضی پر ناجائز قبضوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے ذریعہ نہ صرف اوقافی جائیدادوں کی نشاندہی کی جاسکتی ہے بلکہ قابضین کو بے نقاب کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ 25 برسوں سے ان کی توجہ دہانی کے باوجود حکومتیں کارروائی اور تحفظ میں ناکام ہوچکی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اوقافی جائیدادوں کو مسلمانوں کے حوالے کردیں تاکہ مسلمانوں کی ہمہ جہتی ترقی ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی ترقی کیلئے حکومت کی علحدہ اسکیمات کے بجائے اگر اوقافی جائیدادیں واپس کردی جائیں تو مسلمانوں کی ترقی ہوگی۔ وزیر امور مقننہ پرشانت ریڈی نے اس معاملہ کا نوٹ لیتے ہوئے چیف منسٹر کے علم میں لانے کا تیقن دیا۔ اکبر اویسی کے اس جواب سے مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرتے ہوئے حکومت سے واضح جواب کا مطالبہ کیا۔ مجلسی فلور لیڈر کے مسلسل اصرار پر اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی نے تیقن دیا کہ وہ اس سلسلہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے بات کریں گے اور ضروری کارروائی کی جائے گی۔ ر