دو سال میں بوڑھے ماں باپ نے تلنگانہ میں مدد کیلئے پورٹل پر 3,308 شکایتیں
حیدرآباد۔ 10 فروری (سیاست نیوز) معاشرے میں ضعیف والدین کی دیکھ بھال دن بہ دن سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے ۔ والدین اپنی زندگی کی ساری پونجی اولاد کی پرورش اور ان کی بہتر سے بہتر پڑھائی پر خرچ کردیتے ہیں، اس کے بعد ان کے بہتر مستقبل کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ اولاد کی شادیوں کی اگر بات کی جائے تو لڑکیوں کی شادی تو والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے مگر اب تو صورتحال یہ ہے کہ لڑکوں کی بھی پرتعیش شادیاں والدین ہی کررہے ہیں۔ اولاد کی خاطر اپنی زندگی بھر کی کمائی اور گھر، کاروبار، اثاثہ جات سب کچھ بچوں کے نام یہ خرچ کر دیتے ہیں کہ ہم جب ضعیف ہوں گے تو یہی اولاد ہمارا سہارا بنے گی لیکن اکثر والدین کو مایوسی ہی ہاتھ آتی ہے۔ شہر اور مضافات میں کئی مقامات پر بڑے پیمانے پر اولڈ ایج ہوم (بیت المعمرین) قائم کئے جارہے ہیں۔ بچوں کی خواہش کے مطابق والدین انہیں تعلیم اور روزگار کیلئے بیرون ملک بھیج رہے ہیں لیکن والدین کی دیکھ بھال ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ کئی بچے ایسے ہیں جنہیں والدین کی دولت، جائیدادیں تو بہت عزیز ہیں لیکن ان کی خدمت اور دیکھ بھال کے معاملے میں مجرمانہ غفلت برت رہے ہیں۔ آئے دن کئی ایسے واقعات منظر عام پر آرہے ہیں۔ کلکٹر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے بہت سارے مقامات پر بوڑھے والدین کلکٹر سے رجوع ہوتے ہوئے بچوں کی جانب سے جائیداد حاصل کرنے کے بعد ان کی دیکھ بھال نہ کرنے کی شکایتیں کررہے ہیں۔ کلکٹریٹ میں ضعیف والدین کی بہبود کی خاطر ان کی شکایتوں کو سننے کیلئے ایک انتظامیہ کام کررہا ہے۔ ایسی شکایات وصول ہونے کی صورت میں بچوں کو طلب کرکے کونسلنگ کی جارہی ہے اور مسئلہ کا حل نہ ہونے کی صورت میں مقدمہ درج کرتے ہوئے قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔ والدین نے بچوں کو جو جائیدادیں بطور تحفہ دے دی تھیں، وہ واپس لے کر ان کے والدین کو دی جارہی ہیں۔ گزشتہ دو سال کے دوران ریاست تلنگانہ میںضعیف افراد کی فلاح و بہبود قانون کے تحت 3,308 کیسیس درج ہوئے ہیں۔ ویلفیر ڈپارٹمنٹ نے اس طرح کے واقعات کی شکایت کیلئے ایک پورٹل tgseniorcitizens.cgg.gov.in کا آغاز کیا ہے یا پھر ریاست بھر میں کہیں سے بھی می سیوا کے ذریعہ شکایت کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔ ہر جمعہ کو ویلفیر ڈپارٹمنٹ کے عہدیدار ، کونسلنگ کے ذریعہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بات چیت کے ذریعہ مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں کیسیس بُک کرتے ہوئے آر ڈی او کے زیراہتمام ٹریبیونل کو وصول ہونے والی شکایتوں کی یکسوئی کی جارہی ہے۔ اس طرح کی شکایتوں میں اضلاع کریم نگر، حیدرآباد ، میڑچل سرفہرست ہیں۔ 2