اولیائے طلبا پر تعلیمی اخراجات پر سالانہ 40فیصد اضافی بوجھ

   

ڈیزل قیمتو ں میں اضافہ کا بہانہ ‘ٹرانسپورٹ چارجس میں اضافہ ، کتابیں ، یونیفارم و دیگر اخراجات
حیدرآباد ۔ 20جون ( سیاست نیوز) ریاست میںاسکولس کی کشادگی کے بعد خانگی اسکولس کے طلبا کے والدین پر 40 فیصد کے اخراجات میں اضافہ ہوگیا جس سے والدین پریشان ہیں ۔ پٹرول ، ڈیزل ، پکوان گیس ، اشیاء ضروریہ کی قیمتو ں کے بعد بچوں کی تعلیمی فیس میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ ریاست کے بجٹ اسکولس میں 2019ء تک کورونا بحران سے قبل سالانہ 17ہزار سے 33 ہزار روپئے فیس وصول کی جاتی تھی، اب خانگی تعلیمی اداروں کی جانب سے اس میں اضافہ کرکے سالانہ 25 ہزار تا 55 ہزار فیس وصول کرنے کی والدین شکایت کررہے ہیں ۔ ایل کے جی تا چھٹی جماعت 25ہزار ۔ اس کے بعد دسویں جماعت تک 55 ہزار روپئے وصول کیا جارہا ہے ۔ طلبہ کی فیس ، کتابیں ، دوسرے اخراجات وغیرہ میں 40 فیصد تک اضافہ ہوا ہے ۔ کارپوریٹ اسکولس میں 4 لاکھ تک سالانہ فیس وصول کی جارہی ہے ۔ کورونا بحران کے دوران جو نقصان ہوا اس کی پابجائی کیلئے خانگی اسکولس پر الزام عائد کیا جارہا ہے ۔ دوسری طرف ڈیزل قیمتوں میں اضافہ کا بہانہ کرکے خانگی اسکولس کی جانب سے ٹرانسپورٹ فیس میں بھی اضافہ کیا گیا ۔ ساتھ ہی کتابیں اور یونیفارمس کے اخراجات علیحدہ ہیں۔ جون کی ابتداء سے ریاست میں کورونا کیسیس میں اضافہ ہونے کے پیش نظر 50فیصد فیس پہلے ادا کرنے کا انتظامیہ کی جانب سے والدین پر دباؤ ڈالا جارہا ہے جس سے والدین کو قرض حاصل کرنے مجبور ہونا پڑرہا ہے ۔ فیس کنٹرول کیلئے حکومت نے سال 2016 میں پروفیسر تروپتی راؤ کمیٹی تشکیل دی تھی ، تلنگانہ کے 10,800 خانگی اسکولس میں تقریباً 32 لاکھ طلبہ کی صورتحال کا اس کمیٹی نے جائزہ لیا ہے ۔ ٹاملناڈو ،کرناٹک ، مہاراشٹرا ، راجستھان ، گجرات ، مغربی بنگال ، پنجاب ، اترپردیش کے بشمول 15 ریاستوں میں حکومت کی مقررکردہ فیس کا جائزہ لینے کے بعد کمیٹی نے حکومت کو چند سفارشات کی جس کے بعد ہر اسکول کو سالانہ 10فیصد فیس میں اضافہ کی گنجائش فراہم کی گئی ۔ ن