آخرِ شب کے ڈوبتے تارو
ہم بھی کروٹ بدلنے والے ہیں
اومی کرون سے پہلی موت ‘ چوکسی ضروری
اب اومی کرون نے بھی انسانی جانوں کو تلف کرنا شروع کردیا ہے ۔ برطانیہ میں ایک شخص کی اومی کرون سے متاثر ہونے کے بعد موت واقع ہوگئی ۔ یہ شبہات بھی ہیں کہ کئی ممالک میں اومی کرون نے انسانی جانوں کی قربانی لینی شروع کردی ہے تاہم برطانیہ وہ پہلی حکومت ہے جس نے اومی کرون سے موت کی توثیق کردی ہے ۔ یوروپی ممالک میں اس وائرس نے زیادہ اثر دکھانا شروع کردیا ہے اور ان میں سب سے زیادہ متاثر برطانیہ ہو رہا ہے ۔ ویسے بھی کورونا وائرس کی دوسری لہر نے بھی برطانیہ میں شدید تباہی مچائی تھی اور وہاں لاکھوں افراد اس وباء سے متاثر ہوئے تھے اور ان کی جانیں بھی چلی گئی تھیں۔ کئی ماہ تک مسلسل تحدیدات کے بعد اب کرسمس سے قبل برطانیہ میں عام حالات کو معمول پر لانے کی کوششیں ہو رہی تھیں کہ اومی کرون ویرینٹ نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا ہے اور یومیہ متاثرین کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ دنیا کے مختلف ممالک میں اومی کرون کا اثر شروع ہوچکا ہے اور چند ممالک میں ابھی یہ ابتدائی مراحل میں ہی ہے ۔ ہمارے ملک ہندوستان میں بھی اومی کرون کے چند مریضوں کی توثیق ہوچکی ہے اور یہاں بھی یہ ویرینٹ پہونچ چکا ہے ۔ حکومت کی جانب سے جوکھم والے ممالک سے فضائی سفر پر تحدیدات عائد کردی گئی ہیں۔ وہاںسے آنے والے مسافرین کیلئے مختلف پابندیاں ہیں۔ ائرپورٹس پر کورونا معائنے کئے جا رہے ہیں۔ ان کی سفری تفصیلات معلوم کی جا رہی ہیں۔ انہیں قرنطینہ کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ممکنہ حد تک احتیاط برتی جا رہی ہے ۔ حالانکہ ہندوستان میں ابھی یہ ویرینٹ بالکل ابتدائی مراحل ہی میں ہے لیکن اس معاملے میں غفلت اور لاپرو اہی کا مظاہرہ بالکل بھی نہیں کیا جانا چاہئے ۔ حد درجہ چوکسی اختیار کرتے ہوئے اس ویرینٹ سے انسانی جانوں کے اتلاف اور تباہی کو روکا جاسکتا ہے ۔ ہم نے کورونا وباء کی دو لہریں جھیلی ہیں اور اس کے اثرات سے ملک اور ملک کے عوام ابھی تک پوری طرح باہر نہیں نکل پائے ہیں۔ لاکھوں ہندوستانی شہری اس وباء کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
کورونا کی پہلی لہر نے جہاں ملک کی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی وہیں دوسری لہر نے بھی رہی سہی کسر پوری کردی ۔ خطرناک حدوں تک تباہی ہوئی ہے ۔ لاکھوں انسانی جانیں تلف ہوگئیں۔ کروڑوں افراد اپنے روزگار سے محروم ہوگئے ۔ نوکریاں ختم ہوگئیں۔ ملک کی معیشت پرا س کے منفی اثرات مرتب ہوئے ۔ عوام انتہائی مشکل ترین حالات کا شکار ہوگئے تھے ۔ دو وقت کی روٹی ملنی مشکل ہوگئی تھی ۔ دواخانوں کی حالت بہت زیادہ ابتر تھی ۔ مریضوں کے علاج کیلئے بستر دستیاب نہیں تھے ۔ آکسیجن نہیں مل رہی تھی ۔ آکسیجن کی کمی کے نتیجہ میں کئی جانیں تلف ہوئی تھیں۔ قوم تہس نہس ہوکر رہ گئی تھی ۔ انتہائی افرا تفری کا ماحول پیدا ہوگیا تھا ۔ کسی طرح کورونا کی دوسری لہر قابو میں آئی اور حالات کو دھیرے دھیرے معمول پر لانے کی کوششیں تیز ہوگئی تھیں۔ بتدریج حالات معمول پر آنے لگے ہیں کہ ایسے میں کورونا کی نئی قسم اومی کرون ویرینٹ نے اپنا سر ابھارنا شروع کردیا ہے ۔د نیا بھر میں اس کا اثر دیکھا جا رہا ہے ۔ چند ممالک میں شدت اختیار کرنے والا یہ ویرینٹ ابھی ہندوستان میں بالکل ابتدائی مراحل میں ہے اور ابھی اس کو کنٹرول کیا جا رہا ہے ۔ حکومت ہو یا پھر عوام ہوں سبھی کو اس معاملے میں چوکسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس ویرینٹ کے تعلق سے ابھی مکمل معلومات بھی دستیاب نہیں ہیں ۔ اس کے تعلق سے نت نئی باتیں پھیل رہی ہیں ایسے میں عوام کو خاص طور پر زیادہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے نقصانات سے بچاجاسکے ۔
برطانیہ میں اس ویرینٹ کے اثر کو کم کرنے کیلئے کورونا ٹیکہ لے چکے افراد کو بوسٹر دینے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی کورونا کی ٹیکہ اندازی بہت شدت سے کی گئی ہے ۔ تاہم اب بھی کچھ لوگ ہیں جو اس ٹیکہ سے اجتناب کر رہے ہیں۔ ایسے گوشوں میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں اس وباء کے خطرات سے اور ان کی سنگینی سے واقف کروانا چاہئے تبھی عوام ٹیکہ لینے آگے آسکتے ہیں۔ عوام کو اپنے طور پر کسی طرح کے توہمات یا پھر اندیشوں کا شکار ہوئے بغیر ہر ممکن احتیاط سے کام لینا چاہئے ۔ خود کو اور اپنے عزیز و اقارب کو اس ویرینٹ سے بچانا عوام کی بھی ذمہ داری ہے ۔
