عالمی ادارہ صحت کا انتباہ ، نئی قسم کے وائرس کو معتدل تصور کرنا غلط فہمی
حیدرآباد۔15ڈسمبر(سیاست نیوز) کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کو معتدل تصور کرنا غلط فہمی ہے کیونکہ اومی کرون کورونا وائرس کی ابتدائی اقسام سے زیادہ تیز رفتاری سے پھیل رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اومی کرون نامی کورونا وائرس کی قسم غیر متوقع تیز رفتار سے پھیلنے لگی ہے اور فی الحال دنیا بھر کے 77 ممالک میں اومی کرون پہنچ چکا ہے اور ان ممالک میں اومی کرون کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ڈبلیو ایچ او چیف ٹیڈروس نے بتایا کہ گذشتہ ماہ جنوبی افریقہ میں پائی جانے والی کورونا وائرس کی نئی قسم انتہائی متعدی ہے جو کہ 77 ممالک تک پہنچ چکی ہے ۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے کی جانے والی بات چیت کے دوران کہا کہ 77 ممالک میں اومی کرون کے مریضوں کی نشاندہی ہوئی ہے لیکن یہ بات وثوق کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی کہ دیگر ممالک میں اومی کرون کے متاثرین نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ممکن ہے دیگر ممالک میں بھی اومی کرون کے مریض موجود ہیں لیکن ان کی نشاندہی نہیں ہوپائی ہے ۔ٹیڈروس نے کہا کہ کورونا وائرس کی اب تک جتنی اقسام سامنے آئی ہیں ان میں سب سے زیادہ متعدی قسم اومی کرون ہے لیکن یہ بات درست ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے کس طرح کے اقدامات کرنے چاہئے اس کا تجربہ حاصل کرلیا ہے اسی لئے اومی کرون پر قابو پانے میں دشواریوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔ کورونا وائرس کی ابتدائی اقسام غیر متوقع طور پر پھیلنے والی نہ ہونے کے باوجود دنیا بھر میں کورونا وائرس کا خوف طاری ہوگیا تھا کیونکہ وائرس سے نمٹنے اور اس کے متعلق کوئی تفصیلات موجود نہیںتھیں لیکن اب دنیا بھر میں ٹیکہ اندازی کی رفتار بھی کافی تیز ہونے لگی ہے اس کے علاوہ وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے عوام میں شعور بھی اجاگر ہورہا ہے۔م