اومی کرون ‘ غیر واضح اقدامات

   

Ferty9 Clinic

آج ہی شکوۂ بیداد کا آیا تھا خیال
آج ہی تیری مدارات بہت یاد آئی
ملک بھر میں اومی کرون کے کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ حالانکہ عوام اس معاملے میںزیادہ کچھ تشویش کا شکار نہیں ہیں لیکن حکومتوں کے غیر واضح اقدامات کے نتیجہ میںصورتحال سنگین ہونے لگی ہے ۔ کچھ ریاستوں میںرات کا کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اورکچھ ریاستوں میں دوسرے اقدامات کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ خاص طور پر شعبہ تعلیم پر اس کا انتہائی منفی اثر پڑھنے والا ہے کیونکہ کئی اسکولوں میں ابھی سے آن لائین تعلیم کو بحال کرنے کے اقدامات شروع کردئے گئے ہیں ۔ تقریبا دیڑھ برس کے وقفہ کے بعد باضابطہ اسکولس اور دوسرے تعلیمی اداروں کی کشادگی عمل میں آئی تھی لیکن چونکہ اومی کرون کی دہشت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ایسے میں اسکولی طلبا کو فزیکل کلاسیس کیلئے بھیجنے میں والدین بھی پس و پیش کا شکار ہیں اور تعلیمی ادارے جو اپنی سرگرمیوں کو بتدریج بحال کر رہے تھے وہ ایک بار پھر تذبذب کا شکار ہیں اور دوبارہ آن لائین طریقہ تعلیم اختیار کرنے کی کوششیںشروع کردی گئی ہیں۔ جہاں تک حکومتوں کا سوال ہے ایسا لگتا ہے کہ انہیں خود اس بات کا پتہ نہیں چل رہا ہے کہ انہیں کرنا کیا چاہئے ۔ تہواروں اور دوسری تقاریب پر تو امتناع کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن جن ریاستوںم یں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں وہاں ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کی شرکت کے ساتھ ریلیاں منعقد ہو رہی ہیں ۔ ان ریلیوں میں وہی ذمہ دار شریک ہو رہے ہیں جو اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھ کر تہواروں اور تقاریب میں پابندیاں عائد کرنے کی باتیں کر رہے ہیں اور ہدایت نامے جاری کر رہے ہیں۔ ایک طرف انتخابات کے ماحول کو گرم کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں بھیڑ کو انتخابی ریلیوں میں جمع کیا جا رہا ہے وہیں دوسری طرف تحدیدات عائد کرنے کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں۔ یہ رویہ بھی عوام میں الجھن پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔ اسی طرح حکومتوں کی جانب سے کوئی واضح ہدایات بھی جاری نہیں کی جا رہی ہیں اور صرف عوام میں الجھن پیدا کرنے والے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ عدالتوں کی مداخلت کے بعد کوئی فیصلہ کرنے پر حکومتیں مجبور ہو رہی ہیں۔ اپنے طور پر کوئی فیصلہ کرنے میں کوئی بھی حکومت آگے آنے کیلئے تیار نہیںہے ۔
مدھیہ پردیش ملک کی وہ پہلی ریاست بن گئی ہے جس نے ساری ریاست میں اومی کرون کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے رات کا کرفیو نافذ کردیا ہے ۔ اسی طرح ہفتے کی رات سے اترپردیش میں بھی رات کا کرفیو نافذ کردیا جائیگا ۔ دوسری ریاستیں بھی اسی طرح کے اقدامات پر غور کر رہی ہیں۔ ہماری ریاست تلنگانہ میں بھی عدالت نے حکومت کو تہواروں اور تقاریب پر تحدیدات عائد کرنے کی ہدایت دی ہے اور اندرون دو یوم فیصلہ کرنے کو کہا ہے ۔ مختلف گوشوں سے مختلف اقدامات کے نتیجہ میں عوام خاص طور پر الجھن کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہیں یہ پتہ نہیں چل رہا ہے کہ آئندہ وقتوں میں کیا کچھ ہونے والا ہے ۔ لاک ڈاون کے اندیشوں کے تحت عوام ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔ جو صورتحال پیدا ہو رہی ہے وہ ٹھیک نہیں کہی جاسکتی ۔ حکومتوں کو صورتحال کی مطایبقت میں جو کچھ بھی فیصلے کرنے ہیں وہ دو ٹوک انداز میں کرنے کی ضرورت ہے ۔ عوام کو تسلی اور تیقن دیتے ہوئے فیصلے کئے جانے چاہئیں۔ صرف سیاسی مقصد براری کیلئے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ عوام میں جو الجھن پیدا ہو رہی ہے اسے دور کرنے کی ضرورت ہے ۔ کئی شعبہ جات دباؤ میں آتے جا رہے ہیں۔ سب سے زیادہ مسائل تعلیم کے شعبہ کیلئے پیدا ہوسکتے ہیں کیونکہ والدین اور اولیائے طلبا اپنے بچوں کو خطرہ میں ڈال کر تعلیمی اداروں کو بھیجنے میں پس و پیش کا شکار ہو رہے ہیں۔ خود تعلیمی اداروں کے ذمہ داران بھی صورتحال کے تعلق سے تشویش میں مبتلا ہیں۔
مرکزی حکومت کی جانب سے بھی کوئی واضح ہدایات جاری نہیں کی جا رہی ہیں اور سارا بوجھ ریاستوں پر عائد کرتے ہوئے خود بری الذمہ ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ مرکزی حکومت کو اس طرح کے رویہ کی بجائے واضح فیصلے کرتے ہوئے ریاستوں کے نام ہدایات جاری کرنے کی ضرورت ہے ۔ ریاستوں کو فیصلے کرنے کا اختیار دیتے ہوئے خود مرکزی حکومت کو اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیںکرنا چاہئے اور عوام میں جو اندیشے اور الجھنیں پیدا ہو رہی ہیں ان کا ازالہ کرنے کیلئے بھی مرکز کو آگے آنا چاہئے ۔