قافلے وقت کے بڑھ بڑھ کے ٹھہر جاتے ہیں
دشتِ غربت میں کوئی آبلہ پا باقی ہے
ملک کی پانچ ریاستوں بشمول اترپردیش و پنجاب میںآئندہ سال کے اوائل میںاسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ انتخابات کا شیڈول جاری ہونے سے قبل ہی ملک بھر میں اومی کرون ویرینٹ کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے ۔ ملک بھر میں کورونا متاثرین کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور کچھ گوشوں سے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیںکہ آئندہ وقتوں میں ملک میں کورونا کی تیسری لہر شدت اختیار کرسکتی ہے ۔ ہندوستان میں کورونا کی دو لہروں نے کافی تباہی مچائی ہے ۔ لاکھوںافراد موت کے گھاٹ اتر گئے ہیں۔ لاکھوں خاندان تباہ ہوگئے ہیں اور کروڑ وں افراد روزگار سے محروم بھی ہوچکے ہیں۔ خاص طور پر گذشتہ سال بہار اسمبلی انتخابات میں بھی بھیڑ انتخابی ریلیوں میں جمع ہو رہی تھی ۔ یہی حال مغربی بنگال کا بھی تھا جہاں اسمبلی انتخابات انتہائی شدت کے ساتھ لڑے گئے تھے ۔ دونوں ریاستوں میں انتخابات کے بعد کورونا کی دوسری لہر نے تباہی مچائی تھی ۔ سارا ملک افرا تفری کا شکار ہوگیا تھا ۔ عوام کو دواخانوں میں جگہ نہیں مل رہی تھی ۔ انہیںسانس لینے میں آکسیجن کی تک سہولیات دستیاب نہیں کروائی جاسکی تھیں۔ اترپردیش میں تو یہ حال ہوگیا تھا کہ نعشیں گنگا میں بہائی جا رہی تھیں۔ گنگا کے کنارے نعشوںک و ریت میں دبایا جا رہا تھا کیونکہ شمشان گھاٹوں میں طویل قطاریں تھیں اور عوام کو آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے لکڑی تک مہیا نہیں کروائی جا رہی تھی ۔ حکومتوں کی جانب سے سیاسی فائدوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے عوام کے مستقبل سے کھلواڑ والے فیصلے کئے جا رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جبکہ ملک میں اومی کورون ویرینٹ پھیلتا جا رہا ہے اور کورونا متاثرین کی تعداد میںایک بار پھر اضافہ ہو رہا ہے تو پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا وقت بھی قریب آن پہونچا ہے ۔ سیاسی جماعتیں انتخابی میدان میںکسی طرح کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیںہوتیں۔ انہیںاپنے مفادات اور کامیابی و اقتدار کے حصول کا زیادہ خیال رہتا ہے عوامی صحت کا نہیں۔ اس صورتحال میں یہ اندیشے سر ابھار رہے ہیں کہ اسمبلی انتخابات کے انعقاد سے کورونا کی تیسری لہر نہ شدت اختیار کرجائے ۔
الہ آباد کی عدالت نے الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت سے خواہش کی تھی کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ آیا انتخابات کو ایک یا دو ماہ کیلئے موخر کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ اب جو اطلاعات گشت کر رہی ہیں تو یہ کہا جا رہا ہے کہ انتخابات کو موخر نہیں کیا جائیگا اور ان کا بروقت انعقاد عمل میں لایا جائیگا ۔ الیکشن کمیشن اس سلسلہ میںمتحرک بھی ہوچکا ہے ۔ وہ بہت جلد اترپردیش کا دورہ کرنے والا ہے ۔ اسی طرح پنجاب ‘ گوا ‘ اترکھنڈ اور منی پور کے بھی حالات و تیاریوں کا جائزہ لیا جائیگا ۔ اس طرح جو آثار و قرائن ہیں ان کے مطابق یہ گمان ہوتا ہے کہ انتخابات کا بروقت انعقاد ہی عمل میں لایا جائیگا ۔ اس صورتحال میںالیکشن کمیشن ہو یا مرکزی و ریاستی حکومتیں ہوں یا انتخابات میںحصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتیں ہوں ‘ ان سبھی کو چاہئے کہ وہ عوامی صحت کی ذمہ داری قبول کریں۔ ایسے اقدامات کئے جائیںجن سے انتخابی عمل پر بھی کوئی اثر نہ ہونے پائے اور عوامی صحت پر بھی کوئی سمجھوتہ نہ ہو ۔ انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی دستوری ذمہ داری ہے اور اس سے پہلو تہی نہیں کی جاسکتی لیکن ساتھ ہی عوامی صحت کے ساتھ بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ۔ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کی انتخابات کے آزادانہ و منصفانہ اور پرسکون انعقاد کیلئے ہر ممکن مدد کریں وہیں اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ انتخابی عمل سے ملک ایک بار پھر کورونا کی لہر کا شکار نہ ہونے پائے ۔ جو تباہی ہم نے دو لہروں میں جھیلی ہے ہم دوبارہ اس کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔
انتخابات کے دوران منعقد ہونے والی سیاسی ریلیوں اور جلسوں کیلئے سخت گیر قوانین پیش کئے جانے چاہئیں۔ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو ان پر عمل آوری کا پابند بنایا جانا چاہئے ۔ جلسوں اور ریلیوں کی تعداد پر پابندی عائد ہونی چاہئے اور اس کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو تیار کیا جانا چاہئے ۔ الیکشن کمیشن ‘ ریاستی حکومتوں ‘ محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ حکام کو ایک دوسرے سے تعاون و اشتراک کرتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ عوام کو بھی اس بات کو ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ وہ سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہوئے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی صحت کو خراب نہ کر بیٹھیں کیونکہ ان کا مستقبل خود انہیں کے ہاتھ میں ہے ۔
