زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویا
ہماری بیکسی کو دیکھ کر سارا جہاں رویا
ایک ایسے وقت میں جبکہ ساری دنیا بتدریج معمول کی سمت بڑھ رہی تھی اور حالات ماقبل کرونا جیسے ہونے کے امکانات پیدا ہو رہے تھے ایک بار پھر اس موذی وائرس نے اپنا سر ابھارنا شروع کردیا ہے ۔ فی الحال ساری دنیا میں کورونا وائرس کی ایک نئی قسم اومی کرون کا خطرہ منڈلانے لگا ہے ۔ ساری دنیا اس سے خوفزدہ دکھائی دے رہی ہے ۔ جس وائرس کو فراموش کردیا گیا تھا اور اس کا کہیں کوئی تذکرہ بھی نہیں ہورہا تھا اچانک ہی پھر ایک بار موضوع بحث بن چکا ہے اور یہ سب کچھ اومی کرون کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔ حکومت کی جانبس ے بارہا عوام کو تیقن دیا جا رہا ہے کہ وہ خوفزدہ نہ ہوں اور حکومت اس وائرس سے نمٹنے کیلئے موثر اقدامات کر رہی ہے ۔ حکومت نے 15 ڈسمبر سے بین الاقوامی پروازوں کی بحالی کو موخر کرنے کا اعلان بھی کردیا ہے اور زیادہ خطرہ والے ممالک کے مسافرین پر کئی طرح کی تحدیدات عائد کردی گئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے ٹسٹنگ اور ٹیکہ اندازی پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے تاہم اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ ذمہ داری خود عوام کی بنتی ہے اور انہیں اس معاملے میں سخت ترین چوکسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہر ممکن احتیاط کرتے ہوئے اس وائرس سے ممکنہ حد تک بچا جاسکتا ہے جو ماہرین کے خیال میں سابقہ وائرس سے زیادہ تیزی اور شدت کے ساتھ پھیل سکتا ہے ۔ حکومت نے گذشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ اومی کرون کا ہندوستان میں ایک بھی کیس موجود نہیں ہے تاہم آج توثیق ہوئی کہ کرناٹک میں دو مریض اس وائرس کاش کار ہوچکے ہیں اور ان دونوں سے رابطے میں آنے والے دوسرے پانچ افراد بھی کورونا پازیٹیو پائے گئے ہیں۔ اس طرح یہ وائرس ہندوستان بھی پہونچ چکا ہے ۔ ایسے میں احتیاط ہی سب سے بہترین طریقہ ہوسکتا ہے ۔ احتیاط کے ذریعہ ہی اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے اور اس کے اثرات سے خود کو اور اپنے آس پاس کے لوگوں اور اپنے افراد خاندان کو بچایا جاسکتا ہے ۔ اس معاملے میں اگر لا پرواہی کی جاتی ہے تو پھر اس کے عواقب سنگین بھی ہوسکتے ہیں۔ عوام اس طرح کی لاپرواہی کے متحمل ہرگز نہیں ہوسکتے ۔
حکومت کے اقدامات پر ہی تکیہ کرنے کی بجائے اپنی احتیاط خود بھی کرنی چاہئے ۔ جو ہدایات ماہرین اور حکومتوں کی جانبس ے جاری کی جا رہی ہیں ان پر عمل آوری کرتے ہوئے زیادہ بہتر انداز میں اس وائرس سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت کی جانب سے ایک بار پھر عوام کے نام ہدایات جاری کی جانے لگی ہیں۔ عوام کو سابقہ دو لہروں کا تجربہ بھی ہے ۔ حکومتیں صرف زبانی ہدایات جاری کرنے یا ضابطہ کی تکمیل کے اقدامات سے آگے کچھ نہیںکرسکتیں یا کرنہیں پاتیں۔ لاپرواہی چاہے کسی کی بھی ہو لیکن اس کا خمیازہ عوا م کو ہی بھگتنا پڑسکتا ہے ۔ سابقہ دو لہروں میں بھی ہم نے دیکھا کہ عوام کو ناقابل بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ حکومتیں محض چند معمولی اقدامات کے ذریعہ بری الذمہ ہوتی رہیں۔ عوام نے جو پریشانیاں اور مصائب جھیلے ہیںان کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ حد تو یہ ہوگئی کہ عوام کو اپنے عزیز و اقارب کی آخری رسومات ادا کرنے تک کی سہولیات نہیں مل رہی تھیں۔ شمشان گھاٹوں میں کئی کئی گھنٹے انتظار کے بعد ارتھیوں کا نمبر آ رہا تھا ۔ تب بھی لکڑی دستیاب نہیں ہو رہی تھی ۔ دریائے گنگا کے کنارے نعشوں کو دبادیا گیا تھا جو بعد میں پانی کے بہاو کی وجہ سے اوپر آگئیں ۔ دواخانوں کی حالت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ کہیں آکسیجن دستیاب نہیں رہی تو کہیں ادویات کی قلت تھی ۔ کہیں ڈاکٹرس موجود نہیں تھے تو کہیں دواخانوں میں بستر نہیں مل پا رہے تھے ۔ اس ساری صورتحال میں پریشان عوام ہی ہوئے تھے ۔
سابقہ دو لہروں میں ملک کے عوام نے لاکھوں اپنوں کو کھودیا ہے ۔ کئی گھر اجڑ گئے ہیں۔ ہزاروں خواتین بیوہ ہوگئیں اور لاکھوں بچے یتیم ہوگئے ۔ کروڑوں افراد بیروزگار ہوگئے ۔ عوام کی معیشت تباہ ہوگئی ۔ دو وقت کی روٹی کا ملنا مشکل ہوگیا تھا ۔ ایسے میں اب جبکہ ایک بار پھر وائرس کی نئی اور خطرناک شکل ابھرنے کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں تو عوام کو ہی سب سے زیادہ چوکسی اور احتیاط کی ضرورت ہے ۔ ہم اب مزید کسی تباہی کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔ حکومت کی عدم کارکردگی کا بہانہ کرتے ہوئے عوام اپنی احتیاط سے لاپرواہی نہ برتیں۔ بدترین حالات کا شکار ہونے کی بجائے بہتر یہی ہوگا کہ قبل از وقت احتیاط برتی جائے ۔ ممکنہ حد تک چوکسی اختیار کرتے ہوئے اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جائے ۔
