اویسی برادرس کی حالت اقتدار کے اطراف گھومنے والے سن فلاور کی طرح : کویتا

   

10 سال کے سی آر کی واہ واہی اور 2 برسوں سے ریونت ریڈی کی تائید، پرانے شہر میں ترقی کہاں ہے؟ آئمہ و مؤذنین کا اعزازیہ کی اجرائی کا مطالبہ

حیدرآباد 10 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ جاگرتی کی سربراہ کے کویتا نے اویسی برادرس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ اویسی برادرس کی حالت سن فلاور کی طرح ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کویتا نے کہاکہ جس طرح سن فلاور سورج کے اطراف گھومتا ہے، اُسی طرح مجلس اور اویسی برادرس ہمیشہ اقتدار کے اطراف گھومتے ہیں۔ جو بھی پارٹی اقتدار میں ہو، وہ اُن کے ساتھ رہتے ہیں۔ کویتا نے کہاکہ مجلس نے تلنگانہ تحریک کے دوران علیحدہ ریاست کی مخالفت کی اور رائل تلنگانہ کا مطالبہ کیا تھا لیکن جب تشکیل تلنگانہ کے بعد کے سی آر برسر اقتدار آئے جن کا مین ایجنڈہ علیحدہ تلنگانہ کی تشکیل تھا، اویسی برادرس اُن کے ساتھ مل کر 10 سال تک اقتدار میں حصہ دار رہے۔ 10 برسوں تک کے سی آر کی واہ واہی کرتے رہے۔ اُنھوں نے کہاکہ 2023ء اسمبلی انتخابات سے قبل اویسی برادرس نے ریونت ریڈی کو آر ایس ایس کا آدمی کہا تھا لیکن جب ریونت ریڈی اقتدار میں آئے تو اُن کے قریب ہوگئے۔ اویسی برادرس ہمیشہ اقتدار کے ساتھ رہتے ہیں۔ اُنھوں نے حیرت کا تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مجلسی قائدین راہول گاندھی پر تنقید کرتے ہیں لیکن جوبلی ہلز کے ضمنی چناؤ میں ریونت ریڈی کے ساتھ رہ کر اپنا امیدوار بھی میدان میں نہیں اُتارا اور مکمل طور پر کانگریس کا ساتھ دیا۔ کویتا نے کہاکہ مجلسی قائدین کا دعویٰ ہے کہ چیف منسٹر اُن کی بات سنتے ہیں لہذا میری درخواست ہے کہ ریونت ریڈی سے کہہ کر رمضان المبارک سے قبل آئمہ اور مؤذنین کے زیرالتواء اعزازیہ کی اجرائی کو یقینی بنائیں۔ کانگریس پارٹی نے آئمہ اور مؤذنین کے اعزازیہ کو بڑھاکر ماہانہ 12000 کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ 2 سال گزرنے کے باوجود آج تک وعدے پر عمل نہیں ہوا۔ اُنھوں نے مجلس اور اویسی برادرس سے سوال کیاکہ 2 سال سے حکومت کے ساتھ ہیں لیکن رمضان میں غریب مسلمانوں کو رمضان تحفہ دلانے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ جب حکومت آپ کی سنتی ہے تو پھر رمضان گفٹ مسلمانوں کو کیوں نہیں ملا۔ پرانے شہر کی ترقی پر سوال کرتے ہوئے کویتا نے کہاکہ اُنھوں نے حال ہی میں پرانے شہر کا دورہ کیا تھا جہاں آلودہ پانی کی شکایت عام ہے۔ پرانے شہر میں آر ٹی سی کی سہولت نہیں ہے۔ اسکولس اور سڑکوں کی حالت ابتر ہے۔ کے سی آر کے ساتھ مجلسی قائدین 10 سال رہے اور اب ریونت ریڈی کے ساتھ 2 برس گزرنے کے باوجود پرانے شہر میں ترقی کہاں ہے؟ اُنھوں نے کہاکہ پرانے شہر میں ترقی کو یقینی بنانے کے بجائے حیدرآباد کے اطراف بلدی انتخابی مہم میں عوام سے مجلس کو ووٹ دینے کی اپیل کی جارہی ہے۔ کویتا نے کہاکہ مجلس کو آخر ووٹ کیوں دیں جبکہ پرانے شہر میں ترقی کہاں ہے؟ اُنھوں نے کہاکہ اویسی برادرس کا اولڈ سٹی سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اولڈ سٹی سے باہر قیام کرتے ہیں۔ کویتا نے کہاکہ جب آپ اقتدار کے ساتھ ہیں اور اقتدار میں شراکت بھی ہے تو اپنی قوم اور انتخابی حلقہ کے لئے کچھ کیجئے۔ انتخابی حلقہ میں کوئی ترقی نہیں ہے لیکن باہر بڑے بڑے دعوے کئے جارہے ہیں۔ اُنھوں نے اویسی برادرس سے مطالبہ کیاکہ رمضان المبارک کے دوران مساجد اور درگاہوں کو مفت برقی سربراہی، صحت و صفائی کے اقدامات اور خصوصی بجٹ کی منظوری کو یقینی بنائیں۔1