جیل جانے والے عہدیداروں کی خدمات کو بحال کرنا ادارہ کو تباہ کرنے کے مترادف
حیدرآباد۔18جنوری(سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کے ادارہ ریاستی اردو اکیڈیمی کو بھی بدعنوان عہدیداروں کی باز آبادکاری کے مرکز میں تبدیل کیا جانے لگا ہے اور بدعنوانیوں پرجیل جانے والے افراد کی خدمات کو بحال کیا جارہا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی نیت کیا ہے اور وہ اقلیتی بہبود کے تحت موجود اداروں کو کس طرح سے تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبودنے 30 ڈسمبر کو ایک میمو جاری کر کے ایک ایسے شخص کی خدمات کو تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کے حوالہ کیا گیا ہے جسے آندھراپردیش ریاستی اردو اکیڈیمی میں بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں کے الزامات کے تحت خدمات سے برطرف کردیا گیا تھا اور ان بے قاعدگیوں کی تحقیقات کرنے والی ایجنسیوں نے کاروائی کرتے ہوئے مذکورہ عہدیدارکے خلاف مقدمات درج کرتے ہوئے جیل بھی روانہ کیا تھا لیکن اب محکمہ اقلیتی بہبود تلنگانہ کی جانب اسی شخص کی خدمات کو دوبارہ حاصل کرنے کے سلسلہ میں میمو کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے اور جو عہدیدار متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں اکاؤنٹ آفیسر کے عہدہ پر فائز تھا اسے سپرنٹنڈنٹ اردو اکیڈیمی کے طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ شیخ جعفر جنوری 2021میں آندھرا پردیش ریاستی اردو اکیڈیمی میں 6کروڑ کا اسکام کرنے پر گرفتار ہونے والے عہدیداروں میں شامل تھے ان کی خدمات کو محکمہ اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ کی جانب سے قبول کرتے ہوئے تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کے حوالہ کیا جانا تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی تباہی کے اقدامات کے مترادف ہے۔ شیخ جعفر کے خلاف متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں بھی متعدد شکایات موصول ہوچکی ہیں اور تقسیم ریاست کے بعد ان کی خدمات آندھرا پردیش کے حوالہ کئے جانے کے بعد آندھرا پردیش اردو اکیڈیمی میں فرضی اسکیمات اور بھاری تنخواہوں کی اجرائی کے معاملہ میں سی بی سی آئی ڈی نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا تھا۔ بدعنوانیوں میں ملوث عہدیدارو ںکے خلاف کاروائی کے بجائے محکمہ اقلیتی بہبود تلنگانہ کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار تلنگانہ میں اقلیتی اداروں کو کیوں تباہ کرنا چاہتے ہیں اور ان اداروں کی تباہی سے انہیں کیافائدہ حاصل ہورہا ہے۔م