اِسرو اسٹاف میں 684 اموات ،ایجنسی خاموش !

,

   

ممبئی ۔ 3 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) انڈین اسپیس اینڈ ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) جو ہندوستان میں خلائی تحقیق کا بنیادی ادارہ ہے، وہ اپنے ملازمین کی اموات کے تعلق سے تفصیلات کا افشاء نہیں کرنا چاہتا ہے۔ اس تعلق سے ادارہ کی جانب سے پراسرار خاموشی اختیار کی جارہی ہے چنانچہ جب ممبئی کے جہدکار چین کوٹھاری نے حق اطلاعات کے تحت جاننے کی کوشش کی کہ اسرو کے کتنے ملازمین ایجنسی میں اور اس سے ملحقہ اداروں میں گذشتہ 15 سال کے دوران فوت ہوئے ہیں، تو اسے مخصوص سرکاری انداز کا جواب حاصل ہوا ہے۔ ایجنسی نے اگرچہ جواب دیا کہ اسرو اور اس کی اسوسی ایٹ یونٹس میں گذشتہ 15 سال میں 684 اشخاص کی موت ہوئی لیکن اس نے ان اموات کا سبب بتانے سے گریز کیا۔ کوٹھاری نے سوال اٹھایا کہ اسرو کے اسٹاف میں سالانہ 45.6 کی شرح پر اموات ہورہی ہے۔ اس کے باوجود ایجنسی عوام کو اس کے اسباب بتانا نہیں چاہتی۔ اسرو کے ہیڈکوارٹر کو چھوڑ کر اس کے جملہ اداروں میں گذشتہ 15 سال کے دوران مرنے والوں کی تعداد 387 ہے جبکہ اس کی اسوسی ایٹ یونٹس میں 297 ملازمین فوت ہوئے ہیں۔ کوٹھاری نے کہا کہ انہوں نے مرنے والوں کی شناخت جاننے کیلئے اصرار نہیں کیا کیونکہ یہ رازمیں رکھنا بہتر ہوسکتا ہے لیکن اس کے اسباب بتانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے۔ گذشتہ سال کوٹھاری نے اسی طرح کی معلومات نیوکلیئر ادارہ جات اور متعلقہ تنظیموں کے تعلق سے بھی حاصل کئے تھے جہاں تمام سرکاری اداروں میں موت کا سبب بتایا تھا۔
نیوکلیئر اداروں میں 197 اسٹاف ممبرس کی خودکشی
ہندوستان میں جہاں تک نیوکلیئر ادارہ جات اور متعلقہ انسٹیٹیوٹس کا معاملہ ہے جہدکار کوٹھاری کی کوششوں سے معلوم ہوا کہ 197 ملازمین نے گذشتہ 15 سال کے دوران خودکشی کی ہے اور مجموعی طور پر 1733 اموات پیش آئی ہے۔ انہیں حق اطلاعات کے تحت بتایا گیا کہ یہ اموات مختلف وجوہات کی بناء پیش آئیں جیسے کئی اعضاء کا ناکام ہوجانا، شش کا کینسر ، جگر کی بیماری وغیرہ۔ کوٹھاری کے مواد سے معلوم ہوتا ہیکہ 1995ء سے 2010ء تک مرنے والوں کا تعلق 29-50 سال کی عمر کے گروپ سے رہا۔