نئی دہلی۔23مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستانی اولمپک ایسوسی ایشن (آئی اواے) کے صدر ڈاکٹر نریندر دھرو بترا اور سکریٹری جنرل راجیو مہتا میں کام کے بوجھ کو لے کر ٹھن گئی ہے جس کا صاف اشارہ ہے کہ آئی اواے کے دونوں اعلی افسران کے درمیان گہرے اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔بترا نے مہتا کو بھیجے خط میں کہا کہ انہوں نے مہتا کا کام کا بوجھ کم کرنے کے لئے ان کے کام کو شئیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن مہتا کو یہ بات راس نہیں آئی اور انہوں نے بترا کو بھیجے اپنے جواب میں کہا کہ کھیلوں کی خدمت کرنا ان کا مشن ہے اور انہیں اپنے کام کو لے کر کسی طرح کی کوئی پریشانی نہیں ہے۔آئی اواے کے صدر بترا نے مہتا کو اپنے خط میں کہا کہ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے آئی اواے میں کام کا کافی بوجھ لے رکھا ہے. تقریبا چھ سالوں سے دہلی میں ہر ہفتے پانچ چھ دن آئی اواے کا کام کاج دیکھ رہے ہیں اور ہم آپ کے شکرگزار ہیں کہ آپ نے اپنا اتنا وقت آئی اواے کو دیا ہے۔ کورونا وائرس کے گزشتہ 60 دنوں میں مجھے یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ ہر کسی کو اپنے خاندان کے ساتھ رہنے کی ضرورت ہے۔بترا نے خط میں کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے کام کے بوجھ کو سنبھالوں اور آپ کے کام کو بانٹوں۔ چونکہ میں دہلی میں رہتا ہوں اور کچھ دیگر لوگ بھی باقاعدگی سے دہلی آتے رہتے ہیں اس لئے ہم لوگ ذمہ داریاں بانٹ سکتے ہیں۔آپ کے اہم مشورہ کی ہمیشہ ضرورت رہے گی۔ایسا کرتے ہوئے آپ نینی تال میں اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارپائیں گے اور ساتھ ہی اپنا کاروبار دیکھ پائیں گے جو اتراکھنڈ میں واقع ہے۔بترا کے خط کے جواب میں مہتا نے کہا کہ کھیلوں کو فروغ دینا اور کھیل کی خدمت کرنا ان کا واحد مشن ہے۔مہتا نے کہا کہ میں نے اپنی پوری زندگی کھیلوں کو وقف کر دی ہے اور آئی اواے نے مجھے جو کام دیا ہے اس سے مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے۔مہتا نے ساتھ ہی کہا کہ میں اس بات کے لئے آپ کا شکریہ کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے گزشتہ چند سالوں کے میرے کاموں کو سراہا۔