چندرابابو حکومت میں مسلمانوں کو مشکلات کا سامنا، امجدباشاہ ڈپٹی چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد 8 ستمبر (سیاست نیوز) ریاست آندھراپردیش کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک اقلیتی قائد کو بحیثیت ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ فراہم کرنے کا اعزاز صرف اور صرف وائی ایس جگن موہن ریڈی کو حاصل ہے۔ اس بات کا انکشاف ڈپٹی چیف منسٹر امجد باشاہ نے کیا اور بتایا کہ سابق تلگودیشم حکومت مسلمان کئی مشکلات و مسائل سے دوچار رہے جس کے نتیجہ میں ریاست کے تمام مسلمانوں نے متحدہ طور پر گزشتہ عرصہ کے دوران منعقدہ انتخابات میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی بھرپور تائید و حمایت کرکے بھاری اکثریت سے کامیاب کیا۔ امجد باشاہ نے وشاکھاپٹنم میں آج منعقدہ ایک مسلم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صرف انتخابات کے موقع پر ہی چندرابابو کو مسلمان یاد آتے ہیں۔ انھوں نے نائیڈو پر الزام عائد کیاکہ حکومت کی تشکیل کے موقع پر محض بی جے پی کے ساتھ انتخابی مفاہمت کرنے کی وجہ سے کسی مسلم وزیر کابینہ میں شامل نہیں کیا۔ بعدازاں عین انتخابات سے قبل احمد شریف کو کونسل کا صدرنشین منتخب کیا اور این محمد فاروق کو کابینہ میں موقع فراہم کرنے ریاست کے تمام مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے مزید کہاکہ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں مسلمانوں کو چار فیصد تحفظات فراہم کرنے کا سہرا بھی سابق چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے سر جاتا ہے اس طرح راج شیکھر ریڈی نے غریب مسلمانوں کو ایک نئی زندگی بخشی تھی۔ انھوں نے مزید کہاکہ جگن موہن ریڈی کی زیرقیادت حکومت میں غریب مسلمانوں کو حج کے فرض کی تکمیل کے لئے خصوصی فنڈس فراہم کئے گئے۔ اسی دوران صدرنشین ایم ای آر ڈی سی درونم راجہ سرینواس راؤ نے کہاکہ ریاست میں مسلمانوں کو درپیش کسی بھی مسئلہ کی یکسوئی پر چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کی زیرقیادت حکومت اولین ترجیح دے رہی ہے۔ مسلم خواتین کو ذاتی گھر کی فراہمی کے لئے حکومت اقدامات کررہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ وشاکھاپٹنم کو ممبئی کے خطوط پر ترقی دینے کے لئے چیف منسٹر جگن موہن اقدامات کررہے ہیں۔ ڈرونم راجو سرینواس راؤ نے کہاکہ جی وی ایم سی کے لئے منعقد ہونے والے انتخابات میں وائی ایس آر کانگریس حکومت مسلمانوں کو کم از کم دس نشستیں فراہم کرنے کے اقدامات کرے گی۔
